تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 264
سَرِيْعُ الْحِسَابِ میں اللہ تعالیٰ کی اسی سنت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہر کام کا اثر فوراً انسان کے دل پر پڑجاتا ہے۔اور یہ بھی ایک قسم کا حساب ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لیا جاتا ہے۔تازہ تحقیقات سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ کوئی انسانی حرکت ایسی نہیں جو فضا میں محفوظ نہ ہوجاتی ہو پس عمل اور اس کی جزایہ دو توام بھائی ہیں کہ ایک کے ساتھ دوسرا بھی ظہور میں آجاتا ہے۔وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِيْۤ اَيَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِيْ اور(ان) مقررہ دنوں میں اللہ (تعالیٰ ) کو یاد کرو۔پھر جو شخص جلدی کرے (اور) يَوْمَيْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ١ۙ دو دنوں میں (ہی واپس چلاجائے ) تو اسے کوئی گناہ نہیں اور جو پیچھے رہ جائے اسے (بھی) کوئی گناہ نہیں (یہ وعدہ) لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اس شخص کے لئے ہے جو تقویٰ اختیار کرےاور تم اللہ(تعالیٰ) کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ (ایک دن) تم سب کو اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ۰۰۲۰۴ اکٹھا کر کے اس کے حضور لے جایا جائے گا۔تفسیر۔اس آیت میں جن مقررہ دنوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کا خصوصیت کے ساتھ حکم دیا گیا ہے وہ ایام تشریق ہیں یعنی ۱۱۔۱۲۔۱۳ ذوالحجہ یا ایام منیٰ ہیں۔جو دسویں تاریخ سے شروع ہوتے ہیں اور ۱۳ کو ختم ہو جاتے ہیں۔فَمَنْ تَعَجَّلَ فِيْ يَوْمَيْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ۔فرماتا ہے جو شخص جلدی کرے اور دو دنوں میں ہی واپس چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔دراصل دسویں ذوالحجہ کے بعد رمی الجمار کے لئے تین دن رکھے گئے ہیں۔مگر اجازت ہے کہ کوئی شخص دو دن کے بعد بھی لوٹ آئے۔اس بارہ میں امام ابو حنیفہ ؒ کا مذہب تو یہ ہے کہ ایام تشریق کے تیسرے دن صبح کے وقت جا سکتا ہے۔لیکن بعض نے کہا ہے کہ دوسرے دن رمی الجمار کے بعد بھی جا سکتا ہے۔بعض نے کہا ہے