تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 263
رہے اوریہ آگ کا عذاب میرے قریب نہ پہنچے۔اگر کوئی سپاہی لڑائی میں شامل ہو اور وہ یہ دُعا کرے۔تو اس کی دُعا کے یہ معنے ہوںگے کہ اس لڑائی کے بد اثرات سے مجھے بچا۔بندوق کی گولی آئے تو وہ مس کر جائے۔میرے دائیں نکل جائے یا بائیںنکل جائے۔اوپر نکل جائے یا نیچے نکل جائے۔بہر حال وہ مجھے نہ لگے۔اور میں اس سے محفوظ رہوں پس یہ ایک جامع دُعا ہے جو اسلام نے سکھائی ہے اور جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بڑی کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ نَصِيْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یہی (وہ لوگ )ہیں جن کے لئے ان کی (نیک) کمائی کے سبب سے (ثواب کا) ایک بہت بڑا حصّہ (مقدر) ہے سَرِيْعُ الْحِسَابِ۰۰۲۰۳ اور اللہ (بہت) جلد حساب چکا دیتا ہے۔تفسیر۔کَسَبَ کے معنے محنت کر کے کسی چیز کو حاصل کرنے کے ہوتے ہیں لیکن اس جگہ کَسَبُوْا کا لفظ اوپر والی دُعا کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔اور کہا گیا ہے کہ جو کچھ انہوں نے کمایا اس سے ان کو حصہ ملے گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسب کا لفظ زبان یا دل کے فعل پر بھی بولا جاتا ہے اور مراد یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی نعماء طلب کرتے رہتے ہیں وہ اپنے اپنے اخلاص اور ایمان کے مطابق خدا تعالیٰ سے اجر پائیں گے۔وَ اللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ کا مطلب یہ ہے کہ نیکی اور بدی کی جزا میں کوئی دیر نہیں لگتی بلکہ ادھر عمل سرزد ہوتا ہے اور ادھر اس کی جزا ظاہر ہو جاتی ہے یعنی انسان کا ہر عمل اس کے جوارح پر فوراً اثر ڈال دیتا ہے۔یہ مضمون قرآن کریم میں کئی جگہ بیان ہوا ہے اور حدیثوں میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے آپ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص بُرا کام کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نشان پڑ جاتا ہے اور اگر وہ توبہ نہیں کرتا اور اس کے بد اعمال بڑھتے چلے جاتے ہیں تو یہ سیاہ نقطے بڑھتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کا سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔اور جب کوئی شخص نیک کام کرتا ہے تو ایک سفید نقطہ اس کے دل پر پڑ جاتا ہے اور جب اس کے بعد وہ متواتر نیک اعمال بجا لاتا ہے تو یہ سفید نقطے بڑھنے شروع ہو جاتے ہیں یہا ں تک کہ اس کا سارا دل منور ہو جاتا ہے۔(مسند احمد بن حنبل ،مسند بریرہؓ)