تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 257

لئے دیا گیا ہے کہ قریش اور ان کے ساتھیوں کا طریق تھا کہ وہ مزدلفہ سے آگے عرفات میں نہیں جاتے تھے۔بلکہ مزدلفہ ہی سے واپس چلے آتے تھے۔اور اس کی وجہ وہ یہ قرار دیتے تھے کہ عرفات حدودِ حرم سے باہر ہے اس لئے ہم وہاں نہیں جائیں گے بلکہ مزدلفہ میں مشعرالحرام کے پاس ہی ٹھہریں گے جو حرم کے اندر ہے اور کہتے کہ ہم حرم کے باشندے ہیں اس لئے ہم حرم سے باہر نہیں جا سکتے۔لیکن دوسرے قبائل عرفات میں جا کر حج کرتے تھے۔اس لئے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جس طرح دوسرے لوگ عرفات میں جاتے اور پھر وہاں سے واپس آتے ہیں اسی طرح تم بھی وہاںجائو اور جس طرح وہ عرفات سے واپس آتے ہیں اسی طرح تم بھی واپس آئو۔لیکن اگر ثُمَّ کے معنے ’’پھر‘‘ یا ’’تب‘‘ کے کئے جائیں تو اس صورت میں اس کا یہ مطلب ہو گا۔کہ پھر تم مزدلفہ سے لوٹو جہاں سے سب لوگ واپس لوٹتے رہے ہیں۔یہاں تک کہ قریش اور بنو کنانہ جو حُمس یعنی بڑے پکے دیندار کہلاتے تھے وہ بھی یہیں سے واپس چلے جاتے تھے۔مزدلفہ سے لوٹنے کے متعلق یہ حکم ہے کہ تمام حاجی نماز پڑھ کر اور دُعا کر کے سورج نکلنے سے پہلے وہاں سے چلیں اور منیٰ میں سورج نکلنے کے بعد پہنچ جائیں۔جہاں رمی جمار کی جاتی ہے۔قربانیاں دی جاتی ہیں اور احرام کی حالت ختم ہو جاتی ہے۔یہ آیت چکڑالویوں پر بھی حجّت ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے خود اس جگہ کا نام نہیں بتایا۔پس تفسیر کےلئے سنت کا تفحص بھی ضروری ہے۔پھر فرماتا ہے وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔تم ان مناسک کے ساتھ ساتھ استغفار بھی کرتے رہو کیونکہ حج ایک بہت بڑا ابتلاء بھی ہے۔مجھ سے کئی لوگوں نے بیان کیا کہ ہم نے حج کیا اور ہمار ادل پہلے سے بھی زیادہ سخت ہو گیا۔اسی طرح بہت سے لوگوں نے بیان کیا کہ حج کے دنوں میں تو بڑا جوش ہوتا ہے مگر بعد میں دل پر بُرا اثر پڑتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حج میں ظاہر پر اس قدر زور ہے کہ اس کے مقابلہ میں باطن بہت حد تک پوشیدہ ہو جاتا ہے۔مثلاً وہاں حجرِ اسود کو بوسہ دیتے ہیں۔صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگاتے ہیں۔بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں۔منیٰ میں تین ٹیلوں پر جو اب برجیوں کی شکل میںہیں کنکر پھینکتے ہیں۔اس لئے اگر ساتھ ساتھ استغفار نہ ہو تو دل پر زنگ لگ جاتا ہے اسی طرح وہاں پانچ پانچ گھنٹے بیٹھ کر عبادت کرنی پڑتی ہے۔ہزاروں کے مجمع میں مَیں نے ایک شخص بھی ایسا نہیں دیکھا جو دُعا کرتا ہو۔لوگ حج صرف اس قدر سمجھتے ہیں کہ خطیب جب کھڑا ہو تو اس کے رومال کے ساتھ رومال ہلا دیں۔مگر مجھے خدا تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی اور میں نے وہاں کثرت سے دُعائیں کیں۔تو چونکہ یہ نماز کی طرح ایک معیّن عبادت نہیں اس لئے لوگ اس کی اہمیت محسوس نہیں کرتے۔شریعت