تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 253
اتنا ہی کہہ سکا کہ اب ایک عہدہم میں اور اس میں ہوا ہے معلوم نہیں وہ اسے پورا کرتا ہے یا نہیں(بخاری کتاب الوحی باب کیف کان بدء الوحی)۔تو فرمایا کہ تم جو نیکی بھی کرو گے خدا تعالیٰ اُسے ضرور ظاہر کردے گا اور لوگوں پر تمہارے اچھے کردار اور بلند اخلاق کا گہرا اثر پڑے گا۔وَ تَزَوَّدُوْا۔فرمایا جب تم سفر کے لئے نکلو توہمیشہ اپنے ساتھ زادراہ لے لیا کرو۔اس جگہ تَزَوَّدُوْا سے دونوں زاد مراد ہو سکتے ہیں یہ بھی کہ آمدو رفت اور کھانے پینے کے اخراجات کا انتظام کر لیا کرو۔اور یہ بھی کہ نیکی اور تقویٰ کا زاد ساتھ لو۔چونکہ اس سے پہلے وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور حسنات میں ترقی کرنے کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی تھی اس لئے تَزَوَّدُوْا کہہ کر بتایا کہ حج اور عمرہ کا ثواب تو بہت بڑا ہے۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ تم زیارت کعبہ کے شوق میں خالی ہاتھ اپنے گھروں سے نکل پڑو اور لوگوں سےبھیک مانگتے ہوئے وہاں پہنچو۔تمہارا کام یہ ہے کہ تم پہلے زادِ راہ کا انتظام کرو۔اور جب آمد و رفت اور رہائش اور کھانے پینے وغیرہ کے تمام اخراجات کا انتظام ہو جائے تو اس کے بعد سفر کے لئے نکلو۔فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی اور یاد رکھو کہ بہتر زادراہ ہے جس سے تم سوال اور گناہ سے بچو۔افسوس ہے اس زمانہ میں مسلمانوں میں عام طور پر یہ سمجھا جاتاہے کہ اسلام اس امر کی تعلیم دیتا ہے کہ انسان کو اسباب سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ اپنے تمام معاملات خدا تعالیٰ پر چھوڑ دینے چاہئیں۔مگر یہ قطعاً غلط اور اسلامی تعلیم کے خلاف ہے اس لئے یہاں مسلمانوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ جب تم سفر کے لئے نکلو تو ضروری سامان اور زادِ راہ سے کبھی غفلت اختیار نہ کرو۔لیکن تَزَوَّدُوْا کے ایک معنے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ تم تقویٰ کا زاد لو۔اور چونکہ تقویٰ کا زاد مخفی تھا اس لئے اسے فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی کے الفاظ میں کھول کر بیان کر دیا اور بتایا کہ تقویٰ سب سے بہتر زاد ہے جو آخرت کے سفر میں تمہارے کام آنے والا ہے انہیں معنوں میں بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’وقت تھوڑا ہے اور کارے عمر ناپیدا۔تیز قدم اٹھائو کہ شام نزدیک ہے جو کچھ پیش کرنا ہے وہ باربار دیکھ لو ایسا نہ ہو کہ کچھ رہ جائے اور زیاں کاری کا موجب ہو یا سب گندی اور کھوٹی متاع ہو۔جو شاہی دربار میں پیش کرنے کے لائق نہ ہو‘‘۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۶) چونکہ اس سے پہلے حج کا ذکر آچکا ہے اس لئے فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى۔فرما کر اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اب حج سے تمہاری ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے تمہیں تقویٰ کا پہلے سے بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے