تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 254
جیسے صاف کپڑوں والا چھوٹے چھوٹے داغ اور دھبے سے بھی بچنے کی کوشش کیا کرتا ہے۔پھر فرماتا ہے وَ اتَّقُوْنِ يٰۤاُولِي الْاَلْبَابِ۔اے عقلمندو! اگر تم اپنے بچائو کا سامان کرنا چاہتے ہوتو میری طرف جھکو۔اور صرف مجھے ہی اپنی حفاظت کا ذریعہ بنائو۔باقی تمام ذرائع اس کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہیں۔لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ تمہارے لئے (یہ) کوئی گناہ(کی بات) نہیں کہ (حج کے ایام میں ) اپنے رب سے کوئی(اور) فضل بھی مانگ لو۔اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ پھر جب تم عرفات سے لوٹو تو مشعر الحرام کے پاس اللہ کا ذکر کرو۔اور جس طرح اس نے تمہیں ہدایت دی ہے (اس وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّيْنَ۰۰۱۹۹ کےمطابق )اسے یاد کرو۔اور اس سے پہلے تم یقیناً گمراہوں میں سے تھے۔حلّ لُغات۔کَمَا کے معنے ’’جس طرح‘‘ کے بھی ہوتے ہیں۔اور ’’اس لئے‘‘ کے بھی چنانچہ سیبویہ کہتا ہے کَمَا اِنَّہُ لَا یَعْلَمُ تَجَاوَزَاللّٰہُ عَنْہُ کہ چونکہ وہ نہ جانتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کا گناہ معاف کر دیا۔(بحر محیط زیر آیت ھٰذا) اِنْ یہ اِنَّ سے مخفّفہ ہے اور اس کے معنے قریباً ’’گو‘‘ کے ہوتے ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ اِنْ نافیہ ہے یہ فرّاء کا قول ہے۔کَسائی کہتا ہے کہ اِنْ کے معنے قَدْ کے بھی ہوتے ہیں اور اس جگہ اس کے معنے قَدْ کے ہی ہیں۔(بحر محیط) تفسیر۔فرماتا ہے تمہارے لئے یہ کوئی گناہ کی بات نہیں کہ حج کے ایام میں تم اپنے ربّ سے کوئی اور فضل بھی مانگ لو۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ فضل سے مراد اس جگہ تجارت ہے اور میرے نزدیک بھی یہ درست ہے مگر فضل سے صرف تجارت مراد لینا ایک وسیع مضمون کو محدود کر دینا ہے۔درحقیقت آج اسلام کو جس بہت بڑی مصیبت کا سامنا ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں چاروں طرف کفر غالب ہے اور مسلمان جمود اور بے حسّی کا شکار ہیں۔ان کے دلوں میں یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ وہ اسلام کی اشاعت کے لئے اس جنون سے کام لیں جس جنون سے قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں نے کام لیا تھا اور اسلام کو تھوڑے عرصہ میں ہی تمام معلومہ دنیا میں غالب کر دیا تھا پس حج کے ذکر کے