تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 252
لئے سہولت پیدا ہو جاتی ہے بعض دفعہ بشری کمزوریوں کی وجہ سے انسان ایک لمبے وقت کے لئے کسی کام کو چھوڑنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ایسی حالت میں اس کے اندر استعداد پیدا کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اسے کچھ وقت کے لئے اس کام سے روک دیا جائے۔جب کچھ عرصہ تک رکا رہتا ہے تو اس کی ضبط کی طاقت بڑھ جاتی ہے۔اور آہستہ آہستہ وہ کلّی طور پر اس کام کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔اسی نکتہ کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ رمضان کے مہینہ میں اپنی کمزوریوں میں سے کسی ایک کمزوری پر غالب آنے کی کوشش کرے اور مہینہ بھر اس سے بچتا رہے اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ خدا تعالیٰ رمضان کے بعد بھی اس کی مدد کرےگا اور اسے ہمیشہ کے لئے اس بدی پر غالب آنے کی توفیق عطا فرما دےگا۔یہاں رفث فسوق اور جدال تین گناہوں کے چھوڑنے کا ذکر کیا گیا ہے۔رفث مرد عورت کے مخصوص تعلقات کو کہتے ہیں۔لیکن اس کے علاوہ بد کلامی کرنا، گالیاں دینا، گندی باتیں کرنا، قصے سُنانا، لغو اور بے ہودہ باتیں کرنا جسے پنجابی میں گپیں مارنا کہتے ہیں۔یہ تمام امور بھی رفث میں ہی شامل ہیں۔اور فسوق وہ گناہ ہیں جو خدا تعالیٰ کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں جن میں انسان اس کی اطاعت اور فرمانبرداری سے باہر نکل جاتا ہے۔آخر میں جدال کا ذکر کیا ہے جو تعلقات باہمی کو توڑنے والی چیز ہے ان تین الفاظ کے ذریعہ درحقیقت اللہ تعالیٰ نے تین اصلاحوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔فرمایا ہے (۱) اپنی ذاتی اصلاح کرو اور اپنے دل کو ہر قسم کے گندے اور ناپاک میلانات سے پاک رکھو۔(۲) اللہ تعالیٰ سے اپنا مخلصانہ تعلق رکھو (۳) انسانوں سے تعلقات محبت کو استوار رکھو۔گویا یہ صرف تین بدیاں ہی نہیں جن سے روکا گیا ہے بلکہ تین قسم کی بدیاں ہیں جن سے باہر کوئی بدی نہیں رہتی۔کیونکہ بدی یا تو اپنے نفس سے تعلق رکھتی ہے یا خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتی ہے۔اور یا پھر مخلوق سے تعلق رکھتی ہے۔اور روحانیت کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنی ذاتی اصلاح کے بعد حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی سرگرم رہے۔وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ يَّعْلَمْهُ اللّٰهُ۔فرماتا ہے تمہیں ان باتوں کے چھوڑنے میں کئی قسم کی دقتیں پیش آئیں گی۔مثلاً کسی شخص کو گالی دے دی جائے تو اس کےلئے صبر کرنا بڑامشکل ہو جاتا ہے۔لیکن اگر تم خدا کے لئے ان پابندیوں کو اپنے اوپر عائد کر و گے اور نیکیوں میں حصہ لو گے تو تم جو بھی نیک کام کرو گے اللہ تعالیٰ اسے ضرور ظاہر کر دےگا۔خدا تعالیٰ کی یہ سنّت ہے کہ وہ نیکی کو پوشیدہ نہیں رہنے دیتا۔گو بعض صورتوں میں نیکیوں پر پردہ بھی پڑا رہتا ہے مگر آخر کار نیکی ظاہر ہو کر رہتی ہے اور دشمن بھی اس کو محسوس کئے بغیر نہیں رہتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں کو ہی دیکھ لو! وہ آپ کو گالیاں دیتے تھے مگر ابو سفیان ہر قل کے سامنے آپ ؐ کا کوئی عیب بیان نہ کر سکا۔صرف