تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 251
بے ہودہ گفتگو کو بھی کہتے ہیں۔فُسُوْقَ فَسَقَکا مصدر ہے اور فسوق کے معنے ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کر دینا۔(۲) نافرمانی (۳) سچے راستہ سے دوسری طرف جُھک جانا۔(اقرب) جِدَالَ باب مفاعلہ سے مصدر ہے اور اس کے معنے جھگڑا کرنے کے ہیں۔(اقرب) زَاد جس چیز کو انسان بطور سفر خرچ اپنے ساتھ لے لے۔اِتَّقُوْن امر جمع کا صیغہ ہے جو وَقٰی سے باب افتعال کے مضارع کے صیغہ سے بنا ہے۔اِتَّقَا ءٌ (مصدر) جب اللہ تعالیٰ کے لئے آئے۔یعنی اللہ تعالیٰ اس کا مفعول ہو تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی حفاظت کا ذریعہ بنا لینا۔تفسیر۔اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ میں اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ حج کے بارہ میں قرآن کریم نے کوئی نیا حکم نہیں دیا بلکہ اسی حکم کو قائم رکھا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سےچلا آرہا ہے۔اس وجہ سے حج کے مہینے بھی سب لوگوں کو معلوم ہیں یعنی شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ۔گو امام ابو حنیفہ ؒ اور امام شافعی ؒ کے نزدیک ذوالحج کے صرف دس دن اشہر الحج میں شامل ہیں(بحر محیط زیر آیت ھٰذا)۔فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ جو شخص ان مہینوں میں حج کو اپنے اوپر فرض کر کے چل پڑے۔اُسے چاہیے کہ وہ اپنی زبان کو پاک رکھے اور کوئی ایسی بات نہ کرے جو جنسی جذبات کو برانگیختہ کرنے والی ہو۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ عشقیہ اشعار پڑھنا اس میں داخل نہیں۔کیونکہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ ایام حج میں جاہلیت کے اشعار پڑھے تھے (درمنثور)۔یہ روایت اگرچہ قرآن کریم کے اس واضح حکم کی موجودگی میں درست تسلیم نہیں کی جا سکتی۔لیکن اگر مان بھی لیا جائے کہ انہوں نے ایسا کیا تھا تو امتدادِ زمانہ کی وجہ سے ہم نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے کس غرض کے ماتحت جاہلیت کے اشعار پڑھے تھے۔ممکن ہے انہوں نے دوران گفتگو میں کسی دلیل کے لئے پڑھے ہوں اور سننے والوں نے غلطی سے یہ سمجھ لیا ہو کہ وہ شوقیہ طور پر اس قسم کے اشعار پڑھ رہے ہیں۔بہر حال اس قسم کا کلام خواہ وہ نظم میں ہو یا نثر میں اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔اور ان دنوں کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عبادت میں صرف کرنا چاہیے۔مگر اس ممانعت کے یہ بھی معنے نہیں کہ رفث۔فسوق اور جدال دوسرے دنوں میں جائز ہے۔بلکہ اس ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکمت رکھی ہے کہ اگر کچھ عرصہ تک انسان اپنے نفس پر دبائو ڈال کر ایسے کام چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُسے دوسرے دنوں میں بھی ان کو چھوڑنے کی توفیق مل جاتی ہے کیونکہ مشق ہونے کی وجہ سے اس کے