تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 250

میرا ایمان ضائع ہو چکا ہے تو تو اپنے خزانے سے اور اپنے ہاتھ سے اپنے اس دھتکارے ہوئے بندہ کوایک رحمت کا بیج عطا فرماتاکہ میں اور میری نسلیں تیری رحمتوں سے محروم نہ رہ جائیں اور ہمارا قدم ہمارے سچی اور اعلیٰ قربانی کرنےوالے بھائیوں کے مقام سے پیچھے ہٹ کر نہ پڑے بلکہ تیرے مقبول بندوں کے کندھوں کے ساتھ ساتھ ہمارے کندھے ہوں۔وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِمیں اس طرف توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے ہمیشہ خائف رہو اور اپنے تمام کاموں کی تقویٰ اللہ پر بنیاد رکھو ورنہ تمہارا پہلا ایمان بھی ضائع ہو جائےگا اور تم خدا تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد بن جائو گے۔اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا حج( کے مہینے سب کے)جانے بوجھے ہوئے مہینے ہیں۔پس جو شخص ان میں حج (کا ارادہ )پختہ کرلے (اسے یاد رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ رہے کہ)حج (کے ایام) میں نہ تو کوئی شہوت کی بات نہ کوئی نافرمانی اور نہ کسی قسم کا جھگڑا کرنا (جائز) ہوگا۔اور نیکی خَيْرٍ يَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى ١ٞ (کا)جو (کام ) بھی تم کر و گے اللہ (ضرور )اس (کی قدر )کو پہچان لے گا۔اور زاد راہ (ساتھ) لو اور( یاد رکھو کہ) وَ اتَّقُوْنِ يٰۤاُولِي الْاَلْبَابِ۰۰۱۹۸ بہتر زاد راہ تقویٰ ہے۔اور اے عقل مندو! میرا تقویٰ اختیار کرو۔حل لغات۔رَفَثَ مصدر ہے اور لانفی جنس کے بعد واقع ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔رَفَثَ سے مراد ہر ایسا کلام ہے جس کے اندر کوئی ایسی بات پائی جائے جسے عرف میں برا سمجھا جاتا ہو۔(۲) ایسی بات جس کے اندر جماع یا اس کے متعلقات کا ذکر ہو۔(۳) جب اس کے بعد اِلیٰ صلہ ہو تو اس وقت کنایہ کے طور پر اس کے معنے جماع کے لئے جاتے ہیں (مفردات) اور طبری نے کہا ہے اَلرَّفَثُ اَللَّغْوُ مِنَ الْکَلَامِ (بحرِ محیط) رفث لغو اور