تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 249

صورت میں روزوں کا حکم صرف آفاقیوں کے لئے ہے مکہ والوں کے لئے نہیں کیونکہ وہ تو اپنے شہر میں ہی قربانی مہیا کر سکتے ہیں۔یہ امام شافعی کا مذہب ہے۔(۲) بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت روزوں کے متعلق ہے۔یعنی روزوں کا حکم اہل مکہ کے لئے نہیں بلکہ صرف باہر والوں کے لئے ہے۔گویا انہوں نے صیام کو ذٰلِکَ کے ماتحت رکھا ہے مگر میرے نزدیک یہ دونوں درست نہیں کیونکہ اس صورت میں مکہ والوں کو سہولت رہتی ہے (۳) امام ابو حنیفہ ؒ کہتے ہیں کہ اس سے تمتّع اور قِران والے احکام مراد ہیںجن کا ذکر فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ میں آچکا ہے اور ا س کے معنے یہ ہیں کہ تمتّع اور قِران اہل مکہ کے لئے جائز نہیں(بحر محیط زیر آیت ھذا)۔میرے نزدیک امام ابو حنیفہ ؒ کے معنے زیادہ درست ہیں اور عقل بھی انہی کی تائید کر تی ہے۔کیونکہ مکہ والے تو ہر وقت عمرہ کر سکتے ہیں۔اس کے بعد حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ میں بھی اختلاف ہے کہ ان سے کون لوگ مراد ہیں (۱) حضرت ابن عباسؓ اور مجاہد کہتے ہیں کہ اس سے تمام اہل حرم مرا د ہیں (۲) عطاء کہتے ہیں کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو ہر جہت سے مواقیت کے اندر رہتے ہیں (۳)زہری کہتے ہیں کہ ایک یا دو دن کے سفر تک رہنے والے مراد ہیں (۴)بعض کہتے ہیں کہ اس سے صرف اہل مکہ مراد ہیں اور یہی معنے زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتے ہیں۔آخر میں فرمایا وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔یعنی حج کی عبادت محض اس غرض کے لئے ہے کہ تمہارے دلوں میں تقویٰ پیداہو۔اور تم ماسوی اللہ سے نظر ہٹا کر صرف اللہ تعالیٰ کو ہی اپنی ڈھال بنا لو۔اگر حج بیت اللہ یا عمرہ سے کسی کو یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا کوئی مخفی کبر اس کے سامنے آگیا ہے اسے چاہیے کہ خلوت کے کسی گوشہ میں اپنے خدا کے سامنے اپنے ماتھے کو زمین پر رکھ دے اور جس قدر خلوص بھی اس کے دل میں باقی رہ گیا ہو اس کی مدد سے گریہ و زاری کرے یا کم سے کم گِریہ وزاری کی شکل بنائے اور خدا تعالیٰ کے حضور جھک کر کہے کہ اے میرے خدا! لوگوں نے بیج بوئے اور ان کے پھل تیار ہونے لگے وہ خوش ہیں کہ ان کے اور ان کی نسلوں کے فائدہ کے لئے روحانی باغ تیار ہو رہے ہیں۔پر اے میرے رب! میں دیکھتا ہوں کہ جو بیج میں نے لگایا تھا اس میں سے تو کوئی روئیدگی بھی پیدا نہیں ہوئی۔نہ معلوم میرے کِبر کاکوئی پرندہ اُسے کھا گیا یا میری وحشت کا کوئی درندہ اسے پاؤں کے نیچے مسل گیا یا میری مخفی شامت اعمال ایک پتھر بن کر اس پر بیٹھ گئی۔اور اس میں سے کوئی روئیدگی نکلنے نہ دی۔اے خدا! اب میں کیا کروں کہ جب میرے پاس کچھ تھا میں نے بے احتیاطی سے اُسے اس طرح خرچ نہ کیا کہ نفع اٹھاتا۔مگر آج تو میرا دل خالی ہے۔میرے گھر میں ایمان کا کوئی دانہ نہیں کہ میں بوئوں اے خدا! میرے اس ضائع شدہ بیج کو پھر مہیّا کر دے اور میری کھوئی ہوئی متاع ایمان مجھے واپس عطا کر۔اور اگر