تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 238
وقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ ) یعنی ہم نے یہ حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں پورا کر دیا ہے جبکہ اسلام بہت قلیل تھا اور آدمی کو اس کے دین کی وجہ سے فتنہ میں ڈالا جاتا تھا یعنی یا تو اُسے قتل کیا جاتا تھا یا عذاب دیا جاتا تھا۔یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا پھر کسی کو فتنہ میں نہیں ڈالا جاتا تھا۔اس سے صاف معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک فتنہ نہ رہنے سے یہ مراد ہےکہ لوگ دینی معاملات میں جبرواکراہ سے کام نہ لیں اور محض دین قبول کرنے کی وجہ سے نہ کسی کو قتل کریں۔ا ور نہ کسی قسم کااورعذاب دیں۔اگر یہ معنے نہ ہوتے تو فَاِنِ انْتَھَوْا کیوں آتا؟ کیونکہ یہ تو لوگوں کے بتائے ہوئے معنوں کے خلاف پڑ تاہے اور ہمارے معنوں کے مطابق ہے۔وَيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلّٰهِ کے الفاظ نے بھی مذکورہ بالا حصہ کی تشریح کر دی اور بتا دیا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ دین کا اختیار کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہو جائے اور اس کے متعلق کسی اور کا ڈر نہ ہو۔گویا دین کے اختیار کرنے کے بارہ میں ہرشخص کو کامل آزادی حاصل ہو جائے اور اگر لوگ مسلمان ہونا چاہیں تو وہ بغیر کسی خوف کے ہو سکیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس میں جبر کی تعلیم نہیں دی گئی۔اگر جبر کی تعلیم ہوتی اور اس وقت تک جنگ جاری رکھنا ضروری ہوتا جب تک تمام لوگ مسلمان نہ ہو جائیں تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی مشرکوں سے صلح کے معاہدات نہ کرتے۔پس یہ کہنا کہ اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ مشرکوں سے اس وقت تک لڑائی جاری رکھو جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہو جائیں اور کفر اور شرک مٹ نہ جائے بالکل غلط ہے۔اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینہ کے بدلہ میں ہے۔اور سب (ہی) عزت والی چیزوں (کی ہتک) کا بدلہ لیا فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى جاتا ہے۔اس لئے جو شخص تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر (اس کی) زیادتی کا جس قدر کہ اس نے تم پر زیادتی کی ہو عَلَيْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ۰۰۱۹۵ بدلہ لے لو۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ اللہ یقیناً متقیوں کے ساتھ (ہوتا )ہے۔حل لغات۔اَلْحَرَامُ کے معنے ہیں اَلْمَمْنُوْعُ مِنْہُ جس چیز سے روکا گیا ہو۔(مفردات)