تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 239
اپنی ذات میں کام ہیں۔ایک شخص جس کا دل دنیا بھر کی بدخواہی کے خیالات سے بھرا ہوا ہے رات اور دن لوگوں پر حسد کرتا ہے۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ بد عمل نہیں۔کسی نہ کسی وجہ سے اُسے بد عمل اپنے ہاتھوں یا پیروں سے کرنے کی توفیق نہیں ملی ورنہ بد عمل تو وہ ضرور ہے۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک عمل صالح کی صحیح تشریح خدا اور اُس کے رسول کی مدد کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔پس عملِ صالح کا پتہ بغیر ایمان کے لگ ہی نہیں سکتا۔یہ مطلب نہیں کہ عملِ صالح کی کوئی جُز بھی ایسی نہیں جو بغیر ایمان کے حاصل نہ ہو سکے۔سینکڑوں اجزاء عملِ صالح کے ایسے ہوں گے جن کو بغیر ایمان کے حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ ہمیں یُوں کہنا چاہیے کہ بغیر ایمان کے اُن کو حاصل کیا جاتا ہے۔مگر سوال تو مکمّل تشریح کا ہے مکمل تشریح بغیر ایمان کے حاصل نہیں ہوتی۔دوسرےیہ کہ قرآن کریم عملِ صالح کے دو نتائج بیان فرماتا ہے۔ایک نتیجہ تو یہ بیان فرماتا ہے کہ اچھے کام کے اچھے نتائج اِس دنیا میں ملتے ہیں اور بُرے کام کے بُرے نتائج اِس دنیا میں ملتے ہیں۔جھوٹ بولنے والا بدنام ہو جاتا ہے۔سچ بولنے والا نیک نام ہو جاتا ہے۔لوگ جھوٹے پر اعتبار نہیں کرتے سچے پر اعتبار کرتے ہیں۔بددیانت کو لوگ قرض نہیں دیتے ، دیانتدار کو صرف قرض ہی نہیں دیتے بلکہ اُس کے پاس اپنی امانتیں رکھواتے ہیں جن سے وہ فائدہ اُٹھاتا ہے۔محنتی آدمی کو زیادہ آسانی سے نوکریاں مل جاتی ہیں، کام مل جاتے ہیں اچھی تنخواہیں مل جاتی ہیں۔غرض بہت سے نیک اعمال کے بدلے اِسی دنیا میں مل رہے ہیں۔مگر اس آیت میں اِس دنیا کے بدلوں کا ذکر نہیں اِس آیت میں تو جنت ملنے کا ذکر ہے جو کام انسان نے اپنی مرضی سے کئے اور اُن سے فائدہ اٹھا لیا۔اُن کے بدلہ میں جنّت کیوں ملے۔لازمی بات ہے کہ جنّت ملنے کے لئے کوئی ایسا فعل بھی ساتھ شامل ہونا چاہیے جس فعل سے اُس نے خدا کی بات مانی ہے اور وہ ایمان ہے۔اِسی وجہ سے جب کبھی رسول کریم صلے اﷲ علیہ وسلم جنّت کا ذکر فرماتے تھے یہ ضرور فرماتے کہ جو شخص نیک عمل کرے اِیْمَانًا و اِحْتِسَابًا ایمان اور خدا سے نیک بدلہ کی اُمید کرتے ہوئے، تو اُس کو جنّت مل جائے گی۔اِس کے یہی معنے ہیں کہ عمل کا دنیوی نتیجہ تو یہیںانسان کو حاصل ہو جاتا ہے اگلے جہان میں بدلہ ملنے کے لئے کوئی زائد عمل ہونا چاہیے اور وہ عمل ایمان ہے۔ایک شخص سچ بولتا ہے اور سچ بولنے کی وجہ سے سوسائٹی میں اُس کی قدر ہوتی ہے کئی ایسے کاموں کے حاصل کرنے میں اُسے سہولت حاصل ہوتی ہے جن میں سچ کو قیمت دی جاتی ہے یہ شخص اپنے کام کا پھل کھا لیتا ہے اور نتیجہ پا لیتا ہے لیکن اگر ایسا شخص سچ بولتے وقت یہ بھی مدِّنظر رکھ لیتا ہے کہ میرے خدا نے مجھے کہا ہے کہ سچ بول۔میں اپنے خدا کی خاطر سچ بولتا ہوں تو ایسا شخص ایک تو وہ نیک کام کر رہا ہے دوسرے خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔نیک کام کرنے کا