تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 218

کہ اب کھانا پینا چھوڑ دینا چاہیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اُن کی یہ بات سن کر فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے کہ اُس کے نیچے خیط ابیض اور خیط اسود دونوں آگئے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا۔اس سے مراد تو صرف رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔ظاہر ی دھاگے مراد نہیں ہیں (مسلم کتاب الصّیام باب بیان أن الدخول فی الصوم یحصل بطلوع الفجر۔۔۔۔) اسی طرح بعض اور صحابہ ؓ بھی سفید اور سیاہ دھاگے اپنے پاس رکھ لیتے تھے اور وہ اس وقت تک کھاتے پیتے رہتے تھے جب تک کہ ان دونوں میں انہیں فرق نظر نہ آجاتا۔آخر اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ مِنَ الْفَجْرِ کے الفاظ نازل فرمائے تب انہیں معلوم ہوا کہ خیط ابیض اور خیط اسود سے سفید اور سیاہ دھاگا مراد نہیں بلکہ اس سے صبح صادق اور صبح کا ذب کا فرق مراد ہے۔پنجاب میں بھی بعض زمیندار رمضان کی راتوں میں سفید اور سیاہ دھاگا اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔اور چونکہ دھاگا اچھی روشنی میں نظر آتا ہے مدھم روشنی میں نظر نہیں آتا اس لئے وہ کافی روشنی ہونے تک کھاتے پیتے رہتے ہیں۔بلکہ بعض لوگوں کی نظر چونکہ کمزور ہوتی ہے اس لئے ممکن ہے وہ دن چڑھنے کے بعد بھی اس آیت کی روسے کھانے پینے کا جواز ثابت کر لیں کیونکہ انہیں سورج کی روشنی میں ہی اس فرق کا پتہ لگ سکتا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خیط ابیض اور خیط اسود کے الفاظ استعارۃً استعمال فرمائے ہیں۔اور مراد یہ ہے کہ صرف اس وہم کی بنا پر کھانا پینا ترک نہیں کر دینا چاہیے کہ ممکن ہے صبح ہو گئی ہو بلکہ اس کےلئے ضروری ہے کہ صبح صادق اور صبح کاذب میں امتیاز ہو جائے اور پَوپھٹ جائے۔ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ۔اس جگہ لیل سے گہری تاریکی مراد نہیں بلکہ صرف سورج غروب ہونے کا وقت مراد ہے۔چنانچہ احادیث میں آتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَا یَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ (مسلم کتاب الصیام باب فضل السحور و تاکید استحبابہ۔۔۔) کہ جب تک لوگ سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کرتے رہیں گے اُس وقت تک وہ خیر پر قائم رہیں گے۔یعنی احکام اسلامی کی حقیقی روح ان میں زندہ رہے گی۔ورنہ جب لوگ رسوم یا وہم سے کام لینے لگتے ہیںتو فرائض سے غافل ہو جاتے ہیں اور اُن کے اوہام انہیں دور ازکار باتوں میں الجھا دیتے ہیں اور اُن کی حالت بالکل اس شخص کی سی ہو جاتی ہے۔جو نماز کی نیت باندھتے ہوئے اپنے وہم میں اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ پہلے تو امام کو انگلی مار مار کر کہتا کہ پیچھے اس امام کے اور پھر رفتہ رفتہ اُس نے امام کو دھکے دینے شروع کر دئیے۔اِسی طرح جن لوگوں کاوہم بڑھ جاتا ہے وہ پہلےتو سورج کے غروب ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔مگر چونکہ ابھی سُرخی باقی ہوتی ہے اس لئے ان کی تسلی نہیں ہوتی اور وہ زیادہ انتظار کرتے ہیں۔