تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 18

صرف اس مقصد کو اپنے سامنے رکھو کہ ہم نے مکہ کو اسلام کے لئے فتح کرنا ہے۔جب تک یہ مرکز اور یہ قلعہ تمہیں حاصل نہیں ہو گا سارے عرب اور پھر ساری دنیا پر تمہیں غلبہ میسر نہیں آسکے گا۔یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کیوں کہا کہ تم جس جگہ سے بھی نکلو اپنی توجہ مسجد حرام کی طرف رکھو۔یہ کیوں نہیں کہا کہ تم جس طرف بھی حملہ کرو اپنی توجہ مسجد حرام کی طرف رکھو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خروج کے وقت ہی یہ فیصلہ کیاجاتا ہے کہ ہمارا اس حملہ سے کیامقصد ہے؟ یہ نہیں ہوتا کہ انسان لڑائی تو پہلے شروع کر دے او ر اس کا مقصد بعد میں سوچے۔پس چونکہ یہاں فتح مکہ کے مقصد کو سامنے رکھنے کی طرف توجہ دلانا مقصود تھا اس لئے فرمایا کہ تم نکلتے وقت یہ دیکھ لیا کرو کہ ہماری اس جنگ کا اثر فتح مکہ پر کیا پڑے گا؟ اگر وہ جنگ فتح مکہ میں ممدنہ ہو تو اسے چھوڑ دو۔مگر اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اسلام اپنے پیروئوں کو جارحانہ جنگ کی اجازت دیتا ہے۔کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان آیات کے نزول سے پہلے ہی کفار سے جنگیں شروع ہو چکی تھیں۔یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مِنْ حِیْثُ خَرَجْتَ میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب فرمایاگیا ہے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس رنگ میں فتح مکہ کی ضرورت باقی نہیں رہنی تھی کیونکہ آپؐ کے بعد مکہ پر کوئی حملہ نہیں ہونا تھا بلکہ اس نے کامل طور پر مسلمانوں کے قبضہ میں ہی رہنا تھا۔گویا اس میں آئندہ کے لئے یہ پیشگوئی کر دی کہ مکہ مکرمہ کی دوبارہ جسمانی فتح نہیں ہو گی کیونکہ مکہ کی عظمت قائم کرنے والی ایک فعال جماعت پیدا کر دی جائے گی۔اور وہ ہمیشہ مسلمانوں ہی کے قبضہ میں رہے گا۔وَ اِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ۔فرماتا ہے کہ یہ بات تو تیرے رب کی طرف سے ہو کر رہنے والی ہے۔ان آیات کے نزول کا زمانہ ہجرت کے سولہ ماہ بعد کا ہے۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مشکلات ابھی کامل طور پر دُور نہیں ہوئی تھیں اور ابھی کامل طور پر آپ کا رعب اور دبدبہ اور حکومت بھی قائم نہیں ہوئی تھی۔ایسی صورت میں بظاہر یہ ایک ہنسی کی بات تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ فتح کر لیں گے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ باتیں بنانے والے اور مخالفین وغیرہ بے شک استہزاء سے کام لیں۔یہ بات تیرے رب کی طرف سے ہو کر رہے گی اور ان کو بھی توجہ دلائی ہے کہ تم لوگ اس کو ناممکن خیال کرتے ہو لیکن اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھوں کے سامنے اس پیشگوئی کو پورا کر کے دکھا دےگا۔پھر یہ فقرہ اس لئے بھی کہا گیا ہے کہ انسان جنگ سے ڈرتا اور گھبراتا ہے اُسے یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ معلوم نہیں فتح نصیب ہو گی یا شکست۔لیکن جہت مخصوصہ کی طرف ہر وقت متوجہ رہنا انسان کی ہمت کو بڑھا دیتا ہے۔چنانچہ جب بھی کسی کے دل میں گھبراہٹ پیدا ہوتی یہ آیت اس کے لئے تسلّی کا موجب ہو جاتی کہ