تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 215
کے معنے میں مسجدوں کو لازم پکڑنے والے اور ان میں بیٹھے رہنے والے۔تفسیر۔فرماتا ہے روزوں کی راتوں میں تمہارے لئے اپنی عورتوں سے بے تکلّف ہونا جائز ہے کیونکہ وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں لباس کے تین کام بتائے گئے ہیں۔اوّل۔ننگ ڈھانکنا۔دوم۔زینت کا موجب ہونا۔سوم۔سردی گرمی کے ضرر سے انسانی جسم کو بچانا۔چنانچہ فرماتا ہے يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِيْشًا (الاعراف: ۲۷) یعنی اے آدم کی اولاد ! ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا ہے جو تمہارے ننگ کو ڈھانکتا ہے اور تمہارے لئے زینت کا موجب بھی ہے۔اسی طرح سورہ نحل میں فرماتا ہے۔وَجَعَلَ لَکُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْکُمْ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْکُمْ بَاْسَکُمْ (النحل :۸۲) یعنی اس نے تمہارے لئے کئی قسم کی قمیصیں بنائی ہیں جو تمہیں گرمی سردی سے بچاتی ہیں۔اوربعض قمیصیں یعنی زر ہیں ایسی بھی ہیں جو تمہیں آپس کی جنگ کی سختی سے بچاتی ہیں۔پس هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ مردوں اور عورتوں کے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟فرماتا ہے مردوں اور عورتوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لئے ہمیشہ لباس کا کام دیں یعنی (۱) ایک دوسرے کے عیب چھپائیں (۲) ایک دوسرے کے لئے زینت کا موجب بنیں (۳) پھر جس طرح لباس سردی گرمی کے ضر ر سے انسانی جسم کو محفوظ رکھتا ہے اسی طرح مرد و عورت سُکھ دُکھ کی گھڑیوں میں ایک دوسرے کے کام آئیں۔اور پریشانی کے عالم میں ایک دوسرے کی دلجمعی اور سکون کا باعث بنیں۔غرض جس طرح لباس جسم کی حفاظت کرتا ہے اور اسے سرد ی گرمی کے اثرات سے بچاتا ہے اسی طرح انہیں ایک دوسرے کا محافظ ہونا چاہیے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مثال دیکھ لو۔انہوں نے شادی کے معاً بعد کس طرح اپنا سارا مال رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔تاکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے کوئی دقت پیش نہ آئے اور آپ پورے اطمینان کے ساتھ خدمتِ خلق کے کاموں میں حصہ لیتے جائیں۔یہ اہلی زندگی کو خوشگوار رکھنے کا کتنا شاندار نمونہ ہے جو انہوں نے پیش کیا۔عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فرماتا ہے اللہ تعالیٰ اس بات کو خوب جانتا ہے کہ تم اپنے نفسوں کے حقوق کو تلف کیا کرتے تھے اور ان کا پورا حق ادا نہیں کرتے تھے۔پس اس نے تم پر اپنے فضل سے توجہ کی اور تمہاری اس حالت کی اصلاح کر دی۔یہ حق تلفی جس کی طرف اس آیت میں اشار ہ کیا گیا ہے درحقیقت اس والہانہ عشق کی وجہ سے تھی جو صحابہؓ کے