تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 17

ملک کا دارالحکومت تھا جس کی آبادی پندرہ بیس لاکھ تھی۔اردگرد کے تمام قبائل کی نگاہیں اس کی طرف اٹھتی تھیں اور وہ اس کے فیصلوں اور حکموں کو واجب الاطاعت سمجھتے تھے۔پھر اس زمانہ کے لحاظ سے وہ ایک بہت بڑا شہر تھا۔پندرہ سولہ ہزار اس کی آبادی تھی اور نہ صرف اس کی تمام کی تمام آبادی بلکہ ملک بھر کے پندرہ بیس لاکھ آدمی سب کے سب سپاہی تھے۔فنون جنگ میں بہت بڑی مہارت رکھتے تھے۔جنگجو بہادر اور لڑاکے تھے اور مسلمانوں کے لئے ان کا مقابلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔جس وقت یہ آیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اُس وقت مسلمانوں میں صرف چار پانچ سو سپاہی تھے۔زیادہ سے زیادہ ہزار سمجھ لو اور عورتوں اور بچوں وغیرہ کو ملا کر ان کی کل تعداد گیارہ بارہ ہزار ہوگی۔اس سے زیادہ مسلمانوں کی تعداد نہیں تھی اور ان کی جنگی طاقت تو بہر حال ناقابلِ ذکر تھی۔مگر ایسی حالت میں جبکہ مسلمان سخت کمزور تھے۔جب اُن کی تعداد کفار کے مقابلے میں کوئی نسبت ہی نہیں رکھتی تھی۔جب ان کے پاس لڑائی کا کوئی سامان نہ تھا۔اور جب اُن کی جنگی طاقت کفار کے مقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتی تھی اللہ تعالیٰ تمام کفار کو چیلنج دیتا ہے کہ یہ مسلمان گو تمہیں تھوڑے دکھائی دیتے ہیں۔تمہیں کمزور اور ناطاقت نظر آتے ہیں مگر یہی مسلمان ایک دن تمہارے ملک کو فتح کریںگے۔تمہارے دارالحکومت پر قابض ہوں گے اور وہاں ان کو اس قدر غلبہ میسر آجائے گا کہ یہ اسلام کے احکام کو وہاں جاری کریںگے اور کفر کو عرب کی سرزمین سے بالکل مٹا دیں گے۔یہ دعویٰ مسلمانوں کی حالت کے لحاظ سے ایک مجنونانہ دعویٰ تھا اور پھر یہ دعویٰ ایسا تھا جو کسی خاص علاقہ سے مخصوص نہیں تھا۔بلکہ اس دعویٰ کا اثر وسیع سے وسیع تر تھا کیونکہ نہ صرف اس میں مکہ کو فتح کرنے کی پیشگوئی کی گئی تھی۔نہ صرف عرب پر غالب آجانے کا اعلان کیا گیا تھا بلکہ عیسائیت کو بھی چیلنج دیا گیا تھا۔یہودیت کو بھی چیلنج دیا گیا تھا۔مجوسیت کو بھی چیلنج دیا گیا تھا۔اور بڑے زور سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ان تمام مذاہب کو شکست دے کر اسلام ساری دنیا پر غالب آجائے گا۔یہ دعویٰ ایک مجنونانہ دعویٰ تھا۔اسی وجہ سے کفار رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو پاگل کہا کرتے تھے اور صحابہؓ کو بھی وہ پاگل سمجھتے تھے کیونکہ وہ ایک ایسا دعویٰ کر رہے تھے جس کے پورا ہونے کے اس مادی دنیا میں انہیں کوئی اسباب نظر نہیں آتے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک غیر معمولی کاموں کے لئے ہر انسان کے اندر وہ حالت پیدا نہ ہو جائے جسے بعض حالتوں میں طب مانومینیا کہتی ہے۔جب تک وہ اَور تمام مقاصد کو بھول نہ جائے جب تک اس کے اندر ہر وقت ایک خلش اور بے تابی نہ پائی جائے اور جب تک غیر معمولی کاموں کے لئے اس کے اندر جنون کا سا رنگ پیدا نہ ہو جائے اُس وقت تک ان کاموں میں کبھی کامیابی نہیں ہو سکتی۔اسی کی طرف قرآن کریم نے اس آیت میں توجہ دلائی ہے کہ تم باقی تمام مقاصد کو بھول جائو اور