تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 16
چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو تمہارے ہاتھوں پر فتح کرنا چاہتا ہے۔چنانچہ جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان میں یہ رنگ نمایاں طورپر پایا جاتا ہے اور آپ کی سب لڑائیوں کا مقصد اعلیٰ فتح مکہ ہی تھا۔جس جنگ میں آپ یہ مقصد فوت ہوتا دیکھتے یا جس قوم کے متعلق آپ محسوس فرماتے کہ اس سے جنگ کرنے کے نتیجہ میں فتح مکہ میں تاخیر ہو جائے گی۔وہاں باوجود اُکسائے جانے کے آپ خاموشی اور چشم پوشی اختیار فرماتے۔چنانچہ کئی قومیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ کےلئے اُٹھیں اور انہوں نے چھیڑ چھاڑ بھی کی مگر آپ ہمیشہ اغماض سے کام لیتے رہے لیکن جب کوئی ایسی قوم کھڑی ہوئی جس کو شکست دینے سے فتح مکہ قریب ہو سکتی تھی تو اُس کے ساتھ آپؐ نے ضرور جنگ کی۔اگر تمام اسلامی غزوات پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ اپنے اندر ایک حکیمانہ رنگ رکھتی تھیں بالخصوص فتح مکہ سے پہلے جس قدر جنگیں ہوئیں۔اُن سب کا مقصد صرف یہی تھا کہ فتح مکہ کا راستہ صاف کیا جائے۔اگر اس آیت کے یہ معنے ہوتے کہ تم جہاں سے بھی نکلو قبلہ کی طرف اپنا منہ کرو تو جیسا کہ بتایا جا چکا ہے مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ کے الفاظ اس آیت میں نہ ہوتے بلکہ ان الفاظ کی بجائے یہ الفاظ ہوتے کہ تم جہاں کہیں ہو قبلہ کی طرف اپنا منہ رکھو۔قبلہ کی طرف منہ کرنے کے لئے جہاں کہیں کے الفاظ ہونے چاہیے تھے۔نہ یہ کہ تم جہاں سے بھی نکلو قبلہ کی طرف اپنا منہ پھیر دو۔کیونکہ لوگ کہیں سے نکلتے وقت نمازیں نہیں پڑھا کرتے۔نکلتے وقت تو لوگ چلا کرتے ہیں۔پس اس آیت کا نمازوں کی ادائیگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔بلکہ اس آیت کا صرف یہ مطلب ہے کہ تم جہاں سے بھی نکلو۔چاہے تم اس مقام سے نکلو جس کا منہ مشرق کی طرف ہو۔چاہے اس مقام سے نکلو جس کا منہ مغرب کی طرف ہو۔چاہے اس مقام سے نکلو جس کا منہ شمال کی طرف ہوچاہے اس مقام سے نکلو جس کا منہ جنوب کی طرف ہو بہرحال تمہارا منہ مکہ کی طرف ہونا چاہیے۔یعنی تمہاری توجہ اور تمہارا خیال اور تمہارا ذہن صرف اسی بات کی طرف رہنا چاہیے کہ تم نے مکہ فتح کرنا ہے۔اور وہاں اسلام کو قائم کر کے سارے عرب کو زیر اثر لانا ہے۔وُجُوْہٌ کے معنے توجہات کے بھی ہوتے ہیں (المفردات) پس اس کے معنی یہ ہیں کہ تمہارا ایک ہی مقصد ہونا چاہیے کہ تم نے خانہ کعبہ کو فتح کرکے اُسے اسلام کا مرکز بنانا ہے کیونکہ جب تک مکہ میں اسلام پھیل نہیں جاتا جب تک مکہ مسلمانوں کے ماتحت نہیں آجاتا اس وقت تک باقی تمام عرب مسلمان نہیں ہو سکتا۔یہ پروگرام تھا جو مسلمانوں کا مقرر کیا گیا۔اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ پروگرام ان کی طاقت سے بہت بالا تھا۔بے شک عرب کی حکومت کوئی منظم حکومت نہ تھی مگر وہ طوائف الملوکی بھی نہیں تھی۔مختلف بادشاہ اس کے ساتھ تعلق رکھتے اور معاہدات وغیرہ کرتے تھے۔اسی طرح مکہ گو پوری طرح منظم نہ ہو مگر بہر حال وہ ایک ایسے