تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 203

کے قریب ہو جاتا ہوں اور انہیں اپنا چہرہ دکھا دیتا ہوں۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس کا جواب دینا ضروری معلوم ہوتا ہےاور وہ یہ ہے کہ جب سورۃ قٓ میں جو کہ مکی سورۃ ہے خدا تعالیٰ یہ فرما چکا تھا کہ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (قٓ : ۱۷) ہم انسان سے اس کی رگ ِ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں تو پھر سورۃ بقرہ میں جو مدنی سورۃ ہے یہ فرمانے کی کیا ضرورت تھی کہ جب میرے بندے میرے متعلق تجھ سے سوال کریں تو ُتو اُن کو یہ جواب دے دے کہ َمیں قریب ہوں؟ جب مکی آیت کے ذریعہ ا نہیں معلوم ہو چکا تھا کہ خدا تعالیٰ بہت ہی قریب ہے تو پھر یہ سوال ہی کوئی نہیں کر سکتا تھا۔اس لئے اس آیت کے نازل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔اور اگر کوئی سوال کرتا بھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُسے یہ فرما سکتے تھے کہ خدا تعالیٰ تو بتا چکا ہے کہنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ۔لیکن قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور خدا تعالیٰ کا کلام بلا ضرورت نہیں ہوا کرتا۔پس معلوم ہوا کہ یہاں خدا تعالیٰ کا سوال بیان کرنا اور پھر اس کا جواب دینا کوئی اَور حکمت رکھتا ہے۔اور یہاں جو قریب کا لفظ استعمال ہوا ہے اُس سے وہ قرب اور بُعد مراد نہیں جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ اس کے متعلق تو اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ۔اگریہاں بھی یہی مراد ہوتی تو پھر یہ کیوں فرماتا کہ جب لوگ تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یہ جواب دیجیؤ۔پس معلوم ہوا کہ اس کے جواب میں جو قریب کہا گیا ہے وہ بھی کوئی اَور معنے رکھتاہے۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان دونوں آیتوں میں خدا تعالیٰ نے ایک عجیب فرق رکھا ہے۔او روہ یہ کہ قرب اور بُعد ہمیشہ نسبت کے ساتھ ہوتا ہے ایک چیز ہمارے قریب ہوتی ہے مگر وہی دوسرے سے بعیدہوتی ہے۔پس قریب اور بعید ایک نسبتی چیز ہے۔جب ہم ایک چیز کو قریب کہتے ہیں تو ایک نسبت سے کہتے ہیں حالانکہ دوسری نسبت سے وہی چیز بعید ترین ہو سکتی ہے۔سورۂ ق میں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مَنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ۔کہ ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم اس کے دل میں جو وسوسہ ہوتا ہے اس کو بھی جانتے ہیں اور ہم اس کی رگِ جان سے بھی قریب تر ہیں۔تو اس میں اِلَیْہِ کی نسبت سے اَقْرَبُ فرمایا ہے۔لیکن آیت وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ میں قَرِیْبٌ کا لفظ کسی نسبت سے نہیں فرمایا۔بلکہ بلانسبت فرمایا ہے اور اس کی کوئی حد بندی نہیں کی۔اس عدمِ حد بندی میں ایک لطیف نکتہ ہے اور وہ یہ کہ انسان جو اپنی ضرورت خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرتا ہے وہ مختلف اوقات میں مختلف اشیاء کے متعلق ہوتی ہے کبھی تو وہ انسانوں کے متعلق ہوتی ہے او رکبھی حیوانوں کے متعلق۔کبھی جانداروں کے متعلق ہوتی ہے اور کبھی بے جانوں کے متعلق۔کبھی