تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 202

سب سے پہلا تغیر جو کسی انسان کے دل میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ میں خدا تعالیٰ سے ملوں اور اس کا قرب حاصل کروں۔مگر ظاہر ہے کہ صرف خواہش کا پیدا ہونا اسے خدا تعالیٰ کے دربار تک نہیں پہنچا سکتا بلکہ ضروری ہوتا ہے کہ اسے کوئی ایسا ہادی اور رہنما میسر آئے جو اسے اس مقصد میں کامیابی کا طریق بتائے۔اور اس کی مشکلات کو دُور کرے۔اسلام اس فطری تقاضا کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ بیشک ان لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش تو پیدا ہو گئی ہے کہ انہیں خدا ملنا چاہیے لیکن اب دوسرا تغیر ان میں یہ بھی پیدا ہو نا چاہیے کہ وہ تجھ سے پوچھیں یعنی ہدایت پانے اور خدا تعالیٰ کو تلاش کرنے کے لئے انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف جانا چاہیے اور آپ سے اپنے محبوب حقیقی کا پتہ دریافت کرنا چاہیے جس طرح بیمار کی تندرستی کے لئے ایک تو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ سمجھ لے کہ وہ بیمار ہے اور دوسرے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس ڈاکٹر کے پاس جائے جو اعلیٰ درجہ کا تجربہ کار ہو۔اسی طرح خدا تعالیٰ کو پانے کے لئے بھی ضروری ہے کہ نہ صرف خدا تعالیٰ کو پانے کی سچی خواہش انسان کے دل میں پیدا ہو بلکہ وہ اس خواہش کے حصول کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء اختیار کر لے جو انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچانے والے ہیں۔پھر تیسری بات جو قرب الٰہی کے لئے ضروری ہے اور جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ان کا سوال عَنِّیْ ہو۔یعنی ان کی غرض محض خدا تعالیٰ کو پانا ہو۔لوگ کئی اغراض کے ماتحت مذہب میں داخل ہوتے ہیں۔بعض لوگ محض ایک جماعت میں منسلک ہونے کے لئے داخل ہوتے ہیں بعض اخلاقِ فاضلہ کے حصول کے لئے داخل ہوتے ہیں بعض معاشرت یا تمدّن کے خیال سے داخل ہوتے ہیں مگر فرمایا ان کا سچے مذہب میں داخل ہونا محض خدا تعالیٰ کے وصال اور اس کے قرب کے حصول کے لئے ہو۔کوئی اور خواہش اس کے پیچھے کام نہ کر رہی ہو۔ہاں اگر دوسرے فوائد ضمنی طور پر حاصل ہو جائیں تو اور بات ہے لیکن اصل غرض محض خدا تعالیٰ کا حصول ہونا چاہیے۔پھر عربی زبان کا یہ قاعدہ ہے کہ جب اِذَا کے بعد ف آتی ہے تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ پہلے کام کے نتیجہ میں فلاں بات پیدا ہوئی۔اس جگہ بھی اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ کے یہ معنے ہیں کہ جب یہ تین باتیں جمع ہو جائیں۔یعنی سوال کرنے والے سوال کریں کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی ضرورت ہے۔پھر تجھ سے سوال کریں فلاسفروں اور سائینس دانوں سے سوال نہ کریں۔عیسٰی یاموسیٰ سے سوال نہ کریں بلکہ تیرے پاس آئیں قرآن کے پاس آئیں یا تیرے خلفاء کے پا س آئیں اور پھر وہ میری ذات کے متعلق سوال کریں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ میں ان