تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 201

وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰)۔یعنی وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی پوری کوشش کرتے ہیں ہمیں اپنی ذات ہی کی قسم ہے کہ ہم ضرور ان کو اپنے رستوں کی طرف آنے کی توفیق بخش دیتے ہیں اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مذہب اور علم کے آدمی کو اپنا رستہ دکھانے کے لئے تیار رہتا ہے۔بشرطیکہ انسان اس کے لئے کوشش کرے۔اور اس کی دُعا کو وہ ضرور سن لیتا ہے۔باقی دعائوں کی قبولیت میں وہ انسانی مصالح کو بھی مدِّنظر رکھتا ہے بعض دفعہ انسان جو چیز مانگتا ہے خدا تعالیٰ کے علم میں وہ اس کے لئے مہلک ہوتی ہے۔پھر بعض دفعہ ملازمت ایک ہوتی ہے اور اسے مانگنے والے دو ہوتے ہیں اب ایک ملازمت دو کو تو نہیں مل سکتی وہ لازماً ایک ہی کو ملے گی۔مگر وہ چیز جس کے بانٹنے کے باوجود اس میں کوئی کمی نہیں آسکتی وہ خدتعالیٰ کی ذات ہے باقی تمام اشیاء محدود ہیں۔اگر ایک چیز کے دو مانگنے والے سامنے آجائیں تو وہ لازماً زیادہ حقدار کو دی جائےگی یا اگر وہ مضر ہو تو گواس کا کوئی اور حقدار نہ ہو مگر پھر بھی وہ اپنے مومن بندہ کو نہیں دے گا۔کیونکہ وہ دوست سے دشمنی کیونکر کر سکتا ہے اور کیسے ممکن ہے کہ جس چیز کے متعلق وہ جانتا ہے کہ آگ ہے وہ اپنے دوست کو دےدے؟ غرض سب دعائوں کی قبولیت میں روکیں ہوتی ہیں مگر ایک دُعا ہے جس کے قبول ہونے میں کوئی روک نہیں اور جس کے لینے میں کوئی برائی نہیں۔دنیا کی ہر چیز میں برائی ہوسکتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ وَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ (الماعون:۵) بعض نماز پڑھنے والوں کے لئے بھی ہلاکت ہے مگر خدا تعالیٰ کو مانگنے میں کوئی وَیلنہیں۔کبھی ایسا نہیں ہو ا کہ خدا تعالیٰ کسی سے اس لئے نہ ملے کہ وہ ہلاکت میں نہ پڑے یااس لئے نہ ملے کہ خدا تعالیٰ کے وجود میں کمی نہ آجائے۔جس طرح ہوا ہر ایک کے ناک میں جاتی ہے مگر اُس میں کمی نہیں ہوتی اسی طرح خدا تعالیٰ ہر بندہ کو مل سکتا ہے اور پھر بھی اس میں کمی نہیں ہوتی۔سورج کی شعاعوں سے سب مخلوق فائدہ اٹھاتی ہے۔مگر ان میں کوئی کمی نہیں آتی چاند کی شعاعوں میں کوئی کمی نہیں آتی۔تم چاند کی روشنی میں گھنٹوں بیٹھ کر لطف اٹھائو مگر اس کا نور پھر بھی اُتنے کا اتنا ہی رہے گا۔یہی حال خدا تعالیٰ کا ہے۔بلکہ خدا تعالیٰ تو ان سے بھی کامل ہے۔ان چیزوں میں بھی ممکن ہے کوئی خفیف سی کمی ہو جاتی ہو۔مگر خدا تعالیٰ میں اتنی بھی نہیں ہوتی اسی لئے وہ اپنے بندوں سے کہتا ہے کہ تم میری طرف آئو۔پھر تم دیکھو گے کہ تم کس طرح تیزی سے قدم مارتے ہوئے اس راستہ پر چل پڑو گے جس سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور باوجود یکہ وہ غیر مرئی ہے تم اس کو پالو گے اور اس کا وصال حاصل کر لو گے۔درحقیقت اگر غور کیا جائے تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی روحانی ترقی اور بندوں اور خدا کے باہمی اتصال کے لئے تین تغیرات کا ذکر فرمایا ہے جن کے بغیر کوئی انسان خدا تعالیٰ تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔