تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 192

طرح مل سکتا ہوں تو تُو انہیں کہہ دے کہ رمضان اور خدا تعالیٰ میں کوئی فرق نہیں۔یہی وہ مہینہ ہے جس میں خدا اپنے بندوں کےلئے ظاہر ہوا۔اور اُس نے چاہا کہ پھر اپنے بندوں کو اپنے پاس کھینچ کر لے آئے۔اس کلام کے ذریعہ جو حبل اللہ ہے۔جو خدا کا وہ ر ّسہ ہے جس کا ایک سِرا خدا کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا مخلوق کے ہاتھ میں اب یہ بندوں کا کام ہے کہ وہ اس ر ّسہ پر چڑھ کر خدا تک پہنچ جائیں۔اب میں بتاتا ہوں کہ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ کے تین معنے ہو سکتے ہیں۔اوّل اس جگہ فی تعلیلیہ ہے اور آیت کے معنے یہ ہیں کہ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس کے بارہ میں قرآن کریم اتارا گیا ہے۔یعنی رمضان المبارک کے روزوں کی اس قدر اہمیت ہے کہ ان کے بارہ میں قرآن کریم میں خاص طور پر احکام نازل کئے گئے ہیں۔اور جس حکم کے بارہ میں قرآنی وحی نازل ہو اُس کے متعلق ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ کتنا اہم اور ضروری ہو گا۔فِیْکے یہ معنے لغت سے بھی ثابت ہیں۔چنانچہ عربی زبان میں کہتے ہیں تَکلَّمْتُ مَعَکَ فِیْ ھٰذَالْاَ مْرِ میں نے تجھ سے اس امر کے متعلق گفتگو کی۔اسی طرح قرآن کریم میں بھی اس کی مثال پائی جاتی ہے۔سورۃ یوسف میں اِمْرَ أۃُ الْعَزِیْز کے متعلق آتا ہے کہ اُس نے کہا فَذٰلِکُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْہِ (یوسف :۳۳) یہ وہ شخص ہے جس کے بارہ میں تم نے مجھے ملامت کی ہے۔اسی طرح حدیث میں آتاہے عُذِّبَتْ اِمْرَأَ ۃٌ فِیْ ھِرَّۃٍ حَبَسَتْھَا( بخاری کتاب المساقاۃ باب فضل سقی الماء) ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا کیونکہ اُس نے اُسے بغیر کھلائے پلائے باندھ دیا تھا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ رمضان ایسا مہینہ ہے جس میں قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا۔چنانچہ حدیثوں سے صاف طور پر ثابت ہے کہ قرآن کریم کا نزول رمضان کے مہینہ میں شروع ہوا۔اور گو تاریخ کی تعیین میں اختلاف ہے لیکن محدثین عام طورپر ۲۴ تاریخ کی روایت کو مقدم بتاتے ہیں۔چنانچہ علامہ ابن حجر عسقلانی اور علامہ زرقانی دونوں نے اس روایت کو ترجیح دی ہے کہ قرآن کریم رمضان کی ۲۴ تاریخ کو اُترنا شروع ہوا تھا۔تیسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ رمضان میں پورا قرآن اتارا گیا۔جیسے احادیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا أَنَّ جِبْرِیْلَ کَانَ یُعَارِضُنِیَ الْقُرْاٰنَ فِیْ کُلَّ سَنَۃٍ مَرَّۃً وَ اِنَّہٗ عَارَ ضَنِیَ الْعَامَ مَرَّ تَیْنِ یعنی جبریل ہر سال رمضان کے مہینہ میں تمام قرآن کریم کا میرے ساتھ ایک دفعہ دَور کیا کرتے تھے۔مگر اس سال انہوں نے دو دفعہ دَور کیا ہے جس سے میں سمجھتا ہوں کہ اب میری وفات کا وقت قریب ہے (شرح العلامۃ الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ الفصل