تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 193

الاول فی اتمامہ تعالیٰ نعمتہ علیہ بوفاتہ۔۔۔)اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی قرآن نازل ہوا ہے مگر رمضان المبارک کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں جس حد تک قرآن کریم نازل ہو چکا ہوتا تھا جبریل اس کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر دَور کیا کرتے تھے۔گویا دوسرے الفاظ میں دوبارہ تمام قرآن کریم آپ پر نازل کیا جاتا۔بخاری کتاب بدء الوحی میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔چنانچہ حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَجْوَدَ النَّاسِ وَکَانَ اَجْوَدُ مَایَکُوْنُ فِیْ رَمَضَانَ حِیْنَ یَلْقَاہُ جِبْرِیْلُ وَکَانَ یَلْقَاہُ فِیْ کُلِّ لَیْلَۃٍ مِنْ رَمَضَانَ فَیُدَ ارِسُہُ الْقُرْاٰنَ فَلَرَسُوْلُ اللّٰہِ (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) اَجْوَدُ بِالْخَیْرِ مِنَ الرِّیْحِ الْمُرْسَلَۃِ۔( بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی)یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے بڑھ کر سخی تھے اور زیادہ ترسخاوت آپ رمضان میں فرمایا کرتے تھے جبکہ جبریل آپ سے ملتے تھے۔اور جبریل رمضان کے مہینہ میں ہررات آپ سے ملا کرتے تھے اور تمام قرآن کریم کا آپ کے ساتھ مل کر دَور کیا کرتے تھے۔اُن دنوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بارش لانے والی ہوا سے بھی اپنے جود وکرم میں بڑھ جاتے تھے۔ان حوالجات سے ثابت ہے کہ ابتدائے نزولِ قرآن بھی رمضان کے مہینہ میںہوا اور پھر ہر رمضان میں جتنا قرآن اس وقت تک نازل ہو چکا ہوتا تھا جبریل دوبارہ نازل ہو کر اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم کے ساتھ مل کر دوہراتے تھے۔اس روایت کو مدِّنظر رکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ سارا قرآن کریم ہی رمضان میں نازل ہوا۔بلکہ کئی حصے متعدد بار نازل ہوئے یہاں تک کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے کے بعد اگر ۲۳ رمضان آئے تو بعض آیات ایسی تھیں جو ۲۳ بار نازل ہوئیں بعض ۲۲ بار نازل ہوئیں۔بعض ۲۱ بار اور بعض ۲۰ بار۔اسی طرح جو آیات آخری سال نازل ہوئیں وہ بھی دو دفعہ دہرائی گئیں۔کیونکہ جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آپ کی حیاتِ طیّبہ کے آخری سال میں جبریل علیہ السلام نے دو دفعہ قرآن کریم آپ کے ساتھ دہرایا اور یہ بات قرآن کریم سے ثابت ہے کہ ملائکہ جو بھی کام کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جبریل علیہ السلام کا رمضان میں آپ کے ساتھ مل کر قرآن کریم کا دَور کرنا نزول نہیں کہلا سکتا کیونکہ فرشتہ اُترتا ہی اسی وقت ہے جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہو اور اسلامی زبان میں اس کے لئے نزول کی اصطلاح ہی استعمال ہوتی ہے۔پس اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ کے ایک یہ معنے بھی ہیں کہ اس مہینہ میں تمام قرآن کا نزول ہوا۔یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ رمضان اسلامی نام ہے اس مہینے کا پہلا نام زمانہ جاہلیت میں ناتق ہوا کرتا تھا۔(فتح البیان)