تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 191

بغیر نہیں مل سکتی۔پہلے اس سے علیحدگی اختیار کرنی ضروری ہوتی ہے اور پھر وہ قبضہ میں آتی ہے مگر وہ قبضہ جسے الٰہی قبضہ و تصّرف کہتے ہیں۔ایک دنیوی قبضہ ہوتا ہے جیسے د ّجال کا ہے۔اس کے ملنے کا بیشک یہی طریق ہے کہ اپنے آپ کو دنیا کےلئے وقف کر دیا جائے لیکن جو شخص خدا تعالیٰ کا ہو کر اس پر قبضہ کرنا چاہے وہ اُسی صورت میں کر سکے گا جب اُسے چھوڑ دےگا۔دیکھو ابوجہل نے دنیا کےلئے کوشش کی اور اُسے حاصل کیا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے چھوڑدیا اور پھر بھی وہ آپ کومل گئی۔بلکہ ابو جہل سے زیادہ ملی۔ابوجہل زیادہ سے زیادہ مکہ کا ایک رئیس تھا مگر آپ اپنی زندگی میں ہی سارے عرب کے بادشاہ ہو گئے اور آج ساری دنیا کے شہنشاہ ہیں۔غرض جو دنیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی وہ ابو جہل کو کہاں حاصل ہوئی؟ مگر ابو جہل کو جو کچھ حاصل ہوا وہ دنیا کمانے سے ملا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ ملا وہ دنیا چھوڑنے سے ملا۔پس روحانی جماعتوں کو دنیا چھوڑ دینے سے ملتی ہے۔اور دنیوی لوگوں کو دنیا کمانے سے ملتی ہے۔اور رمضان ہمیں توجہ دلاتا ہے کہ اگر تم اپنے مقصد میں کامیاب ہونا چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ پہلے شدائد اور مصائب قبول کرو۔راتوں کی تاریکیاں قبول کرو اور ان چیزوں سے مت گھبراو ٔ۔کیونکہ یہی قربانیاں تمہاری کامیابی کا ذریعہ ہیں۔غرض رمضان ایک خاص اہمیت رکھنے والا مہینہ ہے۔اور جس شخص کے دل میں اسلام اور ایمان کی قدر ہوتی ہے وہ اس مہینہ کے آتے ہی اپنے دل میں ایک خاص حرکت اور اپنے جسم میں ایک خاص قسم کی کپکپاہٹ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔کتنی ہی صدیاں ہمارے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان گذر جائیں، کتنے ہی سال ہمیں اور انکو آپس میں ُجدا کرتے چلے جائیں کتنے ہی دنوں کا فاصلہ ہم میں اور ان میں حائل ہو تا چلا جائے لیکن جس وقت رمضان کا مہینہ آتا ہے تو یوں معلوم ہوتاہے کہ ان صدیوں اور سالوں کو اس مہینہ نے لپیٹ لپاٹ کر چھوٹا سا کر کے رکھ دیا ہے اور ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گئے ہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی قریب نہیں چونکہ قرآن خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اس لئے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس تمام فاصلہ کو رمضان نے سمیٹ سماٹ کر ہمیں خدا تعالیٰ کے قریب پہنچا دیا ہے۔وہ بُعد جو ایک انسان کو خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے، وہ بُعد جو ایک مخلوق کو اپنے خالق سے ہوتا ہے۔وہ بُعد جو ایک کمزور اور نالائق ہستی کو زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے خدا سے ہوتا ہے وہ یوں سمٹ جاتا ہے وہ یوں مٹ جاتا ہے وہ یوں غائب ہو جاتا ہے جیسے سورج کی کرنوں سے رات کا اندھیرا۔یہی وہ حالت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ (البقرۃ:۱۸۷)۔جب رمضان کا مہینہ آئےاور میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں کہ میں انہیں کس