تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 188

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ رمضان کا مہینہ وہ (مہینہ) ہے جس کے بارہ میں قرآن(کریم) نازل کیا گیا ہے۔(وہ قرآن)جو تمام انسانوں بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ کےلئے ہدایت (بنا کر بھیجاگیا) ہے اور جو کھلے دلائل اپنے اندر رکھتا ہے(ایسے دلائل) جو ہدایت پیدا کرتے ہیں الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اور اس کے ساتھ ہی (قرآن میں) الٰہی نشانات بھی ہیں۔اس لئے تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو (اس حال میں) فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ١ؕ يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لَا دیکھے (کہ نہ مریض ہو نہ مسافر) اسے چاہیے کہ وہ اس کے روزے رکھے۔جو شخص مریض ہو یا سفر میں ہو تواس پر يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١ٞ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى اور دنوں میں تعداد (پوری کرنی واجب )ہوگی۔اللہ(تعالیٰ ) تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۰۰۱۸۶ نہیں چاہتا (یہ حکم اس نے اس لئے دیا ہے کہ تم تنگی میں نہ پڑو) اور تاکہ تم تعداد کو پورا کر لو۔اور اس (بات)پر اللہ کی بڑائی کرو کہ اس نے تم کو ہدایت دی ہے اور تاکہ تم (اس کے ) شکر گذار بنو۔حل لغات۔ھُدًی یہ مصدر ہے اور فاعل کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔یعنی لوگوں کو ہدایت دینے والا۔مزید تشریح کے لئے دیکھیں سورۃ بقرۃ آیت نمبر ۱۷۹ جلد ھذا۔بَیِّنَاتٍ جمع ہے اس کا مفرد اَلْبَیِّنَۃُ ہے۔جس کے معنے ہیں اَلدِّلَالَۃُ الْوَاضِحَۃُ عَقَلِیَّۃً کَانَتْ اَوْ مَحْسُوْسَۃً یعنی واضح دلیل خواہ وہ عقلی ہو یا حِس سے تعلق رکھتی ہو۔(مفردات) تفسیر۔رمضان کا مہینہ ان مقدس ایام کی یاد دلاتا ہے جن میں قرآن کریم جیسی کامل کتاب کا دنیا میں نزول ہوا۔وہ مبارک دن۔وہ دنیا کی سعادت کی ابتداء کے دن۔وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اُس کی برکت کے