تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 15
لئے تدبیر اختیار کرو گے تو خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تم کامیاب ہو جائو گے۔گویا اللہ تعالیٰ کے وعدے اَور رنگ کے ہوتے ہیں اور بندے کے وعدے اور رنگ کے ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے وہ وعدے جن میں تدبیر شامل ہوتی ہے بندے کو ان میں دخل دینا پڑتا ہے اور ان کو پورا کرنے کے لئے کوشش کرنی پڑتی ہے۔اگر بندہ ان میں دخل نہیں دےگا اور ان کو پورا کرنےکی کوشش نہیں کرے گا تو وہ سزا کا مستحق ہو گا۔لیکن بندے کے وعدہ میں یہ نہیںہوتا۔بندہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں تمہارے لئے خدا تعالیٰ کی تقدیر بدل دوں گا۔کیونکہ وہ اس کے اختیار میں نہیں ہوتی۔اگر وہ ایسا کہے گا تو ہم اس سے پوچھیں گے کہ تم تقدیر کو بدلنے والے کون ہو؟ لیکن خدا تعالیٰ یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو میں تمہاری مدد کروںگا اور اپنی تقدیر کو بدل دوں گا۔کیونکہ تقدیر ایسی چیز ہے جو اس کے قبضہ میں ہے اور وہ جب چاہے اُسے بدل سکتا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کا وعدہ دیا گیا تو ساتھ ہی مسلمانوں کو یہ کہا گیا کہ اے مسلمانو! تم موسیٰ ؑ کی قوم کی طرح یہ نہ سمجھ لینا کہ خدا نے مکہ دے دینے کا وعدہ کیا ہے وہ خود اُسے پورا کرےگا۔ہمیں اس کے لئے تدبیر کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ تمہیں بھی اس کے پورا کرنے کی کوشش کرنی پڑے گی۔خدائی وعدے کے یہ معنے ہیں کہ تم کمزور ہو اگر تم کمزور نہ ہوتے تو تم مکہ کو چھوڑ کر کیوں آتے مکہ کو چھوڑنے کے معنے ہی یہ تھے کہ تم کمزور ہو اور تمہارا دشمن مضبوط اور طاقتور ہے لیکن خدا تعالیٰ تمہیںطاقت دےگا اور تم دشمن سے مکہ چھین لو گے پس وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کے معنے یہ ہوئے کہ تم جہاں سے بھی نکلویا جس جگہ سے بھی نکلو تمہار ا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم نے مکہ فتح کرنا ہے۔پھرخروج کے معنے جیسا کہ حل لغات میں بتایا جا چکا ہے لشکر کشی کے بھی ہوتے ہیں۔اس صورت میں آیت کے یہ معنے ہوںگے کہ تم جہاں بھی لشکر کشی کرو کسی جگہ بھی لڑائی کےلئے جاؤ۔چاہے تم مشرق کی طرف نکلویا جنوب کی طرف نکلو۔مغرب کی طرف نکلو یا شمال کی طرف نکلو تمہارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ تمہارا یہ خروج فتح مکہ کی بنیاد قائم کرنےوالا ہو۔مثلاً تم اگر جنوب کی طرف دشمن پر حملہ کرنا چاہو لیکن تمہیں معلوم ہو جائے کہ اس ملک کے مغرب کی طرف اس کے دوست موجود ہیں اور اُن کے متعلق یہ شبہ ہے کہ وہ کہیں پیچھے سے حملہ نہ کردیں اور تم پہلے مغرب کی طرف حملہ کرکے اُن کو صاف کر لو تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ یہ مغرب کی طرف حملہ اصل میں جنوب کے حملہ کا پیش خیمہ ہے۔اسی طرح اگر اس قوم کے ساتھی شمال میں بستے ہوں اور پہلے تم اُن پر حملہ کرو تو تمہارا یہ حملہ اصل میں جنوب پر ہی ہو گا کیونکہ اصل مقصد تمہارا جنوب کے دشمن پر حملہ کرنا ہوگا۔اسی اصل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ اے مسلمانو! تم کسی قوم کسی ملک اور کسی علاقے پر چڑھائی کرو تمہارا رخ مکہ کی طرف ہونا