تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 174

طور پر کسی کا حق دبائیں مگر وہ لوگ دنیا میں بہت زیادہ ہیں جو لڑائی اور جھگڑے کو پسند کرلیں گے مگر اپنا حق چھوڑنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوںگے۔سینکڑوں پاگل اور نادان دنیا میں ایسے ہیں جو اپنا حق حاصل کرنے کے لئے دنیا میں عظیم الشان فتنہ و فساد پیدا کر دیتے ہیں۔اور اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتے کہ دنیا کا امن برباد ہورہا ہے۔حالانکہ اگر وہ ذاتی قربانی کریں تو بہت سے جھگڑے اور فساد مٹ سکتے ہیں اور نہایت خوشگوار امن قائم ہو سکتا ہے۔پس رمضان کا مہینہ ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم صرف حرام ہی نہ چھوڑو بلکہ خدا تعالیٰ کے لئے اگر ضرورت پڑ جائے تو حلال یعنی اپنا حق بھی چھوڑ دو۔تاکہ دنیا میں نیکی قائم ہو اور خدا تعالیٰ کا نام بلند ہو۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسلامی عبادتیں اپنے اندر کئی قسم کے سبق رکھتی ہیں۔بعض سبق ایسے ہوتے ہیں جو ہر عبادت سکھاتی ہے اور بعض سبق ایسے ہوتے ہیں جو ایک سے زیادہ عبادتوں کی نسبت سے پیدا ہوتے ہیں۔اور بعض سبق ایسے ہیں جو ساری عبادتوں کی مجموعی حالت سے پیدا ہوتے ہیں۔بعینہٖ اسی طرح خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ عالم میں ہمیں یہ نقشہ نظر آتا ہے کہ اس کا ہر فرد اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا ہے پھر دو افراد مل کر اپنے اندر حقیقت رکھتے ہیں۔پھر دو سے زیادہ افراد مل کر ایک حقیقت پیدا کرتے ہیں۔پھر سارا عالم اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا ہے یہی حال عبادتوں کا ہے۔اور جس طرح قانونِ قدرت میں ایک ترتیب اور ربط موجود ہے اسی طرح عبادتوں میں بھی ربط ہے مگر یہ بات صرف شریعتِ اسلامیہ میں ہی پائی جاتی ہے باقی شرائع میں نہیں۔ان میں نماز۔زکوٰۃ اور روزہ کی قسم کی عبادتیں ہیں مگر ان کا آپس میں کوئی ربط نہیں۔وہ ایسی ہی ہیں جیسے بکھری ہوئی اینٹیں۔لیکن شریعت اسلامیہ کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کا ہر حکم اپنے اندر حقیقت رکھتا ہے پھر سارے کے سارے احکام مل کر اپنے اندر ایک اور حکمت رکھتے ہیں۔اس کی ایک مثال نماز اور روزہ ہے۔نماز اپنی ذات میں ایک سبق رکھتی ہے اور روزہ بھی اپنی ذات میں ایک سبق رکھتا ہے مگر پھر نماز اور روزہ مل کر ایک اور سبق رکھتے ہیں۔اگر نماز نہ ہوتی صرف روزے ہوتے تو یہ سبق رہ جاتا۔اور اگر روزے نہ ہوتے صرف نماز ہی ہوتی تب بھی یہ سبق رہ جاتا۔بیشک روزے اپنی ذات میں مفید ہیں اور نماز اپنی ذات میں مفید ہے جس طرح اسلام کی ساری عبادتیں اپنی اپنی ذات میں مفید ہیں لیکن نماز اور روزہ مل کر ایک نیا سبق دیتے ہیں جس کا میں اس موقعہ پر ذکر کر رہا ہوں۔نماز کا اصل مقام طہارت ہے جسے وضو کی حالت کہتے ہیں۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص وضو کر کے نماز کے لئے بیٹھ جاتاہے وہ نماز ہی کی حالت میں ہوتا ہے (مسلم کتاب المساجد باب فضل الصلاۃ المکتوبۃ فی جماعۃ و فضل انتظار الصلوٰۃ۔۔۔)۔نماز اس حالت کا انتہائی مقام ہے۔ورنہ اصل نماز