تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 155

گے تو نہ دے۔کافر والدین یا اقربین کےلئے ورثہ نہیں رکھا گیا۔ہاں وصیت کی گنجائش رکھی گئی ہے تاکہ اگر وہ اسلام کے خلاف اپنے مال کو استعمال کرنے والے ہوں تو انہیں مال نہ پہنچ سکے اور اگر جائز طور پر مدد کے مستحق ہوں تو اُن کی مدد کی جا سکے۔اِس آیت کا تیسرا مطلب یہ ہے کہ مرنے والا اپنے پوتوں اور اپنے بھائیوں کے بیٹوں کےلئے بھی کچھ وصیت کر جائے تاکہ اُن کی مدد ہو جائے۔اور شریعت کے کسی حکم کی بھی خلاف ورزی نہ ہو۔کیونکہ اسلامی قانون کی رُو سے اگر دادا کی زندگی میں اس کا بیٹا فوت ہو جائے تو پوتوں اور پوتیوں کو وراثت سے حصہ نہیں ملتا۔پس ایسی صورت میں اگر وہ اپنی جائیداد کے 1/3 حصہ میں سے اپنے پوتوں ،پوتیوں یا بھائیوں کے بیٹوں کو کچھ روپیہ دینا چاہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔(۴) جن ممالک میں اپنے اپنے قانون رائج ہیں وہاں دو صورتیں ہیں۔بعض تو ایسی جگہیں ہیں جہاں مرنے کے وقت کی وصیت کو ہی معتبر سمجھا جاتا ہے۔جیسے روس کا ملک ہے اور بعض جگہیں ایسی ہیں جہاں مرنے والے کی وصیت پر عمل نہیں ہوتا بلکہ حکومت نے جو قانون مقرر کیا ہوا ہو اس کے مطابق ورثہ تقسیم ہوتا ہے۔اگر ایسے ممالک ہوں جہاں مرنے والے کی وصیت تسلیم کی جاتی ہے تو اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ جن ورثاء کو رواج کے مطابق ورثہ نہیں مل سکتا انہیں وصیت کی وجہ سے شریعت کے مطابق حصہ مل جائےگا اور اسلامی تعلیم اُن ممالک میں بھی زندہ ہو جائےگی جن میں گو اسلامی حکومت نہیں مگر وہ مرنے والے کی وصیت پر عمل کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔اور جہاں اسلامی قانون کے مطابق ورثہ تقسیم نہ ہو سکتا ہو وہاں خواہ جائز ورثاء کو ورثہ نہ مل سکے پھر بھی اس کے نتیجہ میں مسلمان اس گناہ سے بچ جائیں گے جو اس حکم کی خلاف ورزی کے ساتھ وابستہ ہے اور صرف وصیت تبدیل کرنے والے گنہگار قرار پائیں گے۔مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس وصیت کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ کسی وارث کو جس کا شریعت نے حصّہ مقرر کر دیا ہے اس کے حق سے زیادہ دے دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بڑی سختی سے منع فرمایا ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے اِنَّ اللّٰہَ اَعْطیٰ کُلَّ ذِیْ حَقٍّ حَقَّہٗ وَلَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ (ترمذی ابواب الوصایا باب ما جاء لا وصیۃ لوارث) اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کا حق مقرر کر دیا ہے۔اس لئے کسی وارث کےلئے جس کا اللہ تعالیٰ نے حصہ مقرر کر دیا ہے۔وصیت نہیں ہو سکتی۔پس یہ آیت نہ منسوخ ہے نہ بلا ضرورت۔بہت دفعہ مرنے کے بعد ورثا ء میں تقسیم مال پر جھگڑا ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ غیر رشتہ دار بھی کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں اتنا روپیہ دینے کا اس نے وعدہ کیا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہدایت دے دی کہ مرنےوالے کو وصیت کر دینی چاہیے تاکہ کوئی جھگڑا نہ ہواور یہ سوال نہ اُٹھے کہ