تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 154
یہ بات بتاتی ہے کہ یہاں مال کی تقسیم کا مسئلہ بیان نہیں کیا جا رہا بلکہ ایک عام تاکید کی جا رہی ہے اور اولاد کی بجائے والدین اور اقربین کا ذکر ا س لئے کیا گیا ہے کہ اس آیت کا سیاق وسباق بتا رہا ہے کہ یہ حکم جنگ اور اس کے مشابہ دوسرے حالات کے متعلق ہے۔چنانچہ اس سے چند آیات پہلے وَ الصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِيْنَ الْبَاْسِ میں لڑائی کا ذکر آچکا ہے۔اسی طرح آگے چل کر وَقَا تِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ میں پھر جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور چونکہ جنگ میں بالعموم نوجوان شامل ہوتے ہیں۔جن کے ہاں یا تو اولاد ہوتی ہی نہیں یا چھوٹی عمر کی ہوتی ہے۔اس لئے والدین اور اقربین کے حق میں وصیت کرنےکا حکم دیا اور اولاد کا ذکر چھوڑدیا اور یہ ہدایت فرمائی کہ جب کسی شخص کی موت کا وقت قریب آجائے یا وہ کسی ایسے خطرناک مقام کی طرف جانے لگے جہاں جانے کا نتیجہ عام حالات میں موت ہوا کرتا ہے۔اور پھر اُس کے پاس مال کثیر بھی ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ وصیت کر دے کہ اُس کی جائیداد احکام الٰہیّہ کے مطابق تقسیم کی جائے تاکہ بعد میں کوئی جھگڑا پیدا نہ ہو۔اور یہ تاکید بجائے اس کے کہ کسی اور کو کی جائے اپنے رشتہ داروں کو کرے۔اور اگر مال کا کوئی حصہ صدقہ کرنا ہو تو اس کا بھی اظہار کر دے۔میں سمجھتا ہوں اگر مسلمان اِس تعلیم پر عمل کرتے تو وہ رواج جو شرعی تقسیم وراثت کے خلاف اُن میں جاری رہا کبھی جاری نہ ہوتا۔جس ملک میں اسلامی شریعت کا نفاذ ہو وہاں تو کسی رواج کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لیکن ایسے ممالک جہاں رواج کا سوال پیدا ہو وہاں اس امر کی شدید ضرورت ہوتی ہے کہ مرنے والا اپنے والدین اور رشتہ داروں کے حق میں یہ وصیت کر جائے کہ اُن میں معروف کے مطابق جائیداد تقسیم کی جائے ورنہ اُس کا مال رواجی مستحقوں کو مل جائےگا اوراصل مستحقین محروم رہ جائیں گے۔رہایہ سوال کہ معروف کیا ہے ؟سوایک تو احکام وراثت معروف ہیں اُن پر عمل کرنے کی تاکید ہونی چاہیے۔دوسرے بعض حقوق ایسے ہیںجو احکامِ وراثت سے باہر ہیں۔اور جن کو قاعدہ میں تو بیان نہیں کیا گیا مگر مذہبی اور اخلاقی طور پر انہیں پسند کیا گیا ہے اوراُن کے لئے شریعت نے 1/3تک وصیت کردینے کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔مثلاً اگر وہ چاہے تو کچھ روپیہ غربا ء کی بہبودی کےلئے وقف کر دے اور اس کی اپنے رشتہ داروں کو تاکید کر جائے۔الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَ الْاَقْرَبِيْنَ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر اس کے ورثا ء کا فرہوں تو اُن کےلئے حُسنِ سلوک کی وصیت کر جائے۔کیونکہ ایسی صورت میں وصیت کے بغیر کافروالدین یا دوسرے قریبی رشتہ داروں کو کچھ نہیں مل سکتا۔اگر وہ دیکھے کہ انہیں کچھ مال دے دینے سے فائدہ ہوگا تو اُن کے متعلق تاکید کر دے کہ فلاں فلاں شخص کو میرے مال میں سے اس قدر حصّہ ضرور دے دیا جائے اور اگر دیکھے کہ وہ اس روپیہ کو اسلام کے خلاف خرچ کریں