تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 153
عَلَى الْمُتَّقِيْنَؕ۰۰۱۸۱ (یہ بات ) متقیوں پر واجب ہے۔حل لغات۔خَیْرًا مفردات میں لکھا ہے وَقَوْلُہٗ تَعَالٰی اِنْ تَرَکَ خَیْرًا اَیْ مَالًا وَقَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ لَایُقَالُ لِلْمَالِ خَیْرٌ حَتّٰی یَکُوْنَ کَثِیْرًا وَمِنْ مَکَانٍ طَیِّبٍ۔یعنی اس آیت میں خَیْراً سے مراد مال ہے اور بعض علماء کے نزدیک مال کو خَیْرٌ اس وقت کہیں گے جب وہ زیادہ ہو اور نیک ذرائع سے کمایا ہو ا ہو۔(مفردات) تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے متعلق مرنے والے کو جو وصیت کرنے کا حکم دیا ہے اس کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسی وصیت ہے جس کی تعلیم دی گئی ہے۔جبکہ شریعت نے خود احکام وراثت کو سورۃ نساء میں تفصیلاً بیان کر دیا ہے اور ان کے نزول کے بعد رشتہ داروں کے نام وصیت کرنا بے معنی بن جاتا ہے؟ سو اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ بعض لوگ تو کہتے ہیں کہ وصیت کے احکام چونکہ دوسری آیات میں نازل ہو چکے ہیں اس لئے یہ آیت منسوخ ہے اب اِس پر کسی عمل کی ضرورت نہیں۔مگر ہمارے نزدیک قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ نہیں۔قرآنی آیات کی منسوخی کا عقیدہ محض قلّتِ تدبّر کی بنا پر ظہور میں آیا ہے۔جب مسلمانوں کو کسی آیت کا مفہوم پوری طرح سمجھ میں نہ آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ وہ منسوخ ہے اور اس طرح کئی کئی سو آیات تک انہوں نے منسوخ قرار دے دیں۔اگر وہ سمجھتے کہ قرآن کریم کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف قابلِ عمل ہے تو وہ ہر آیت پر غور کرتے۔اور اگر اسے حل کرنے سے قاصر رہتے تو خدا تعالیٰ کے حضور جھکتے اوراس سے دعائیں کرتے کہ وہ اُن کی مدد کرے اور اپنے کلام کی حقیقت سمجھنے کی انہیں توفیق عطا فرمائے اور اگر وہ ایسا کرتے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اُن کی رہنمائی کے سامان پیدا فرما دیتا اور انہیں مشکل آیات کا حل نظر آجاتا مگر انہوں نے بدقسمتی سے یہ آسان رستہ اختیار کر لیا کہ جس آیت کا مطلب سمجھ میں نہ آیا اُسے منسوخ قرار دے دیا۔یہی طریق انہوںنے یہاںبھی اختیار کر لیا ہے مگر اس آیت کے جو معنے ہم کرتے ہیں۔اگر اس کو مدِّنظر رکھا جائے تو یہ حکم بڑا ہی پُر حکمت نظر آتا ہے اور اسے منسوخ قرار دینے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔درحقیقت یہاں وصیت کا لفظ صرف عام تاکید کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور اس کا ایک بڑاثبوت یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے والدین اور اقربین کے متعلق تو وصیت کرنےکا حکم دیا ہے مگر اولاد کو ترک کر دیا ہے۔حالانکہ قلبی تعلق کے لحاظ سے اولاد کا ذکر بھی ضرور ہونا چاہیے تھا