تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 149
عدل بن عثمان بیان کرتے ہیں۔رَاَیْتُ عَلِیًّا عَمَّ خَارِجًا مِنْ ھَمْدَانَ فَرَأَی فِئَتَیْنِ تَقْتُلَانِ فَفَرَّقَ بَیْنَھُمَا ثُمَّ مَضٰی فَسَمِعَ صَوْتًا یَا غَوْثًابِاللّٰہِ فَخَرَجَ یَحُضُّ نَحْوَہٗ حَتّٰی سَمِعْتُ خَفْقَ نَعْلِہٖ وَھُوَ یَقُوْلُ اَتَاکَ الْغَوْثُ فَاِذَا رَجُلٌ یُلَا زِمُ رَجُلًا فَقَالَ یَا اَمِیْرَ الْمُوْمِنِیْنَ بِعْتُ مِنْ ھٰذَا ثَوْ بًا بِتِسْعَۃِ دَرَاھِمَ وَشَرَطْتُ عَلَیْہِ اَنْ لَّا یُعْطِیَنِیْ مَغْمُوْرًا وَلَا مَقْطُوْعًا وَکَانَ شَرْ طُھُمْ یَوْ مَئِذٍ فَاَتَیْتُہٗ بِھٰذِہِ الدَّرَاھِمِ لِیُبَدِّ لَھَالِیْ فَاَ بٰی فَلَزِ مْتُہٗ فَلَطَمَنِیْ فَقَالَ اَبْدِ لْہُ فَقَالَ بِیِّنَتَکَ عَلَی اللَّطْمَۃِ فَاَتَا ہُ بِالْبَیِّنَۃِ فَاَقْعَدَہٗ ثُمَّ قَالَ دُوْنَکَ فَاَقِصِّ فَقَالَ اِنِّیْ قَدْ عَفَوْتُ یَا اَمِیْرَ ا لْمُوْ مِنِیْنَ قَالَ اِنَّمَا اَرَدْتُ اَنْ اَحْتَاطَہٗ فِیْ حَقِّکَ ثُمَ ضَرَبَ الرَّجُلَ تِسْعَ دُرَّاتٍ وَقَالَ ھٰذَا حَقُّ السُّلْطَانِ۔(تاریخ الطبری سنۃ ۴۰ ھ) یعنی میں نے دیکھا کہ حضرت علی ؓ ہمدان سے باہر مقیم تھے کہ اسی اثناء میں آپ نے دو گروہوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا اور آپ نے ان میں صلح کر ادی لیکن ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ آپ کو کسی شخص کی آواز آئی کہ کوئی خدا کے لئے مدد کو آئے۔پس آپ تیزی سے اُس آواز کی طرف دوڑے حتٰی کہ آپ کے جوتوں کی آواز بھی آرہی تھی اور آپ کہتے چلے جاتے تھے کہ ’’مدد آگئی مد د آگئی۔‘‘ جب آپ اس جگہ کے قریب پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ ایک آدمی دوسرے سے لپٹا ہوا ہے۔جب اُس نے آپ کو دیکھا تو عرض کیا کہ اے امیر المومنین! میں نے اس شخص کے پاس ایک کپڑا نو درہم کو بیچا تھا اور شرط یہ تھی کہ کوئی روپیہ مشکوک یا کٹا ہوا نہ ہو۔اور اس نے اس کو منظور کر لیا تھا۔لیکن آج جو میں اس کو بعض ناقص روپے دینے کے لئے آیا تو اس نے بدلانے سے انکار کر دیا۔جب میں پیچھے پڑا تو اس نے مجھے تھپڑ مارا۔آپ نے مشتری سے کہا کہ اس کو روپے بدل دے پھر دوسرے شخص سے کہا کہ تھپڑ مارنے کا ثبوت پیش کر۔جب اس نے ثبوت دے دیا تو آپ نے مارنے والے کو بٹھا دیا اور اُسے کہا کہ اس سے بدلہ لے۔اس نے کہا اے امیر المومنین! میں نے اس کو معاف کر دیا۔آپ نے فرمایا تُونے تو اس کو معاف کر دیا مگر میں چاہتا ہوں کہ تیرے حق میں احتیاط سے کام لوں۔معلوم ہوتا ہے وہ شخص سادہ تھا اور اپنے نفع نقصان کو نہیں سمجھ سکتا تھا اور پھر اس شخص کو سات کوڑے مارے اور فرمایا اس شخص نے تو تجھے معاف کر دیا تھا مگر یہ سزا حکومت کی طرف سے ہے۔غرض اسلام نے مظلوم کو یا بصورت مقتول اس کے ورثاء کو مجرم کا جرم معاف کردینے کی تو اجازت دی ہے مگر ساتھ ہی حکومت کو بھی اختیار دیا ہے کہ اگر وہ یہ محسوس کرے کہ مظلوم کم فہم ہے یا ظالم کو معاف کردینے سے اس کی دلیری اور شوخی اور بھی بڑھ جائے گی یا مقتول کے ولی اپنے نفع نقصان کو یا پبلک کے نفع نقصان کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے یا خود شریک جرم ہیں تو اس صورت میں باوجود ان کے معاف کر دینے کے خود مجرم کو سزا دے اور اس سے بہتر