تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 148

مقتول عورت ہو یا قاتل عورت اور مقتول مرد ہو جو بھی قتل کرے اسے قتل کی سزا دو چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔آپ ؐنے ایک عورت کے بدلہ میں مرد کوقتل کیا(مسلم کتاب القصاص باب ثبوت القصاص فی القتل بالحجر وغیرہ ) اسی طرح غلام کے بدلہ میں آزاد کے مارے جانےکا حکم دیا۔جیسے سمرۃ ابن جندب کی روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مَنْ قَتَلَ عَبْدَہُ قَتَلْنَا ہُ وَمَنْ جَدَعَہٗ جَدَعْنَا ہُ (ابن ماجہ ابواب الدیات باب ھل یقتل الحر بالعبد) یعنی جوشخص اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے اس کے بدلہ میں قتل کریں گے اور جوشخص اپنے غلام کے ہاتھ پائوں کاٹے گا۔ہم اس کے بدلہ میں اس کے ہاتھ پائوں کاٹیں گے۔اس کے بعد فرماتا ہے فَمَنْ عُفِيَ لَهٗ مِنْ اَخِيْهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَيْهِ بِاِحْسَانٍ یعنی اگر کسی مقتول کے وارث کسی مصلحت کے ماتحت قاتل کو اس کے جرم کا کچھ حصہ معاف کر دیں تو ان کو اختیار ہے۔بعض لوگ اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ حکومت کو قاتل کے گرفتار کرنے یا اس کو سزا دینے کا کوئی اختیار نہیں بلکہ یہ تمام اختیار مقتول کے ورثاء کو حاصل ہے۔مگر یہ درست نہیں اس جگہ صرف یہ بتایا گیا ہے کہ اگر مقتول کے ورثاء احسان کے طور پر قاتل کو معاف کر دیں تو حکومت کو اُن کی خواہش کا احترام کرنا چاہیے اس حقِّ معافی کے سوا رشتہ داروں کا کوئی تعلق قاتل کے ساتھ نہیں۔قاتل کو گرفتار کرنا یا اس پر مقدمہ چلانا حکومت ہی کاکام ہے اور اُسی کے ذمہ ہے جیسا کہكُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلٰى میں حکومت کے ذمّہ وار افسران کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ وہ قتل کے واقعات کی چھان بین کریں اور مجرم کو قرار واقعی سزا دلوائیں۔اسلام نے مقتول کے وارثوں کو عفو کا جو اختیار دیا ہے اس کے متعلق کہاجا سکتا ہے کہ اس میں بعض دفعہ نقصانات کا بھی احتمال ہو سکتا ہے۔مثلاً ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو اس کے وارث ہی قتل کروا دیں اور پھر قاتل کو معاف کردیں۔یہ شبہ ایک معقول شبہ ہے۔مگر اسلام نے اس قسم کے خدشات کا بھی ازالہ کر دیا ہے اور گو ایک طرف اس نے دو مخالف خاندانوں میں صلح کرانے کے لئے عفو کی اجازت دی ہے مگر دوسری طرف ایسی ناجائز کارروائیوں کی بھی روک تھام کر دی ہے۔چنانچہ عفو کے ساتھ اس نے اصلاح کی شرط لگا دی ہےجس کے معنے یہ ہیں کہ عفو اسی وقت جائز ہوتا ہے جب اس کے نتیجہ میں اصلاح کی اُمید ہو۔اگر عفو باعثِ فساد ہے تو ایسا عفو ہرگز جائز نہیں اور حکومت باوجود وارثوں کے عفو کر دینے کے اپنے طور پر سزا دے سکتی ہے۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا ایک واقعہ جو طبری نے لکھا ہے بتاتا ہے کہ ابتدائے اسلام سے اس احتیاط پر عمل ہوتا چلا آیا ہے وہ واقعہ اس طرح ہے کہ