تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 147

ہی قتل کیا جائے خواہ اس کا قاتل کوئی غلام ہی ہو۔اور غلام مقتول کے بدلہ میں کسی غلام کو ہی قتل کیا جائے خواہ اس کا قاتل کوئی حُرّ ہو اور عورت مقتول کے بدلہ میں کسی عورت کو ہی قتل کیا جائے خواہ اس کا قاتل کوئی مرد ہو کیونکہكُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلٰى میں حکم پہلے بیان ہوچکا ہے۔درحقیقت یہ جملہ مستأنفہ ہے اور جملہ مستانفہ اس لئے آتا ہے کہ پہلے جملہ میں جو سوال مقدّر ہو اس کو بیان کئے بغیر نئے جملہ میں جواب دیا جائے اور بغیر عطف کے اس کو بیان کیا جائے(شرح مختصر معانی مؤلفہ ابن یعقوب و بہائوالدین جلد۳ مطبوعہ مصر صفحہ۵۴) اس جگہ بھی یہ جملہ ایک سوال مقدّر کے جواب کے لئے لایا گیا ہے۔اور اس میں عرب کی ان رسوم کا قلع قمع کیا گیا ہے جو ان میں عام طور پر رائج تھیں۔اور وہ سوال مقدّر یہ ہے کہ کیا اس حکم سے عرب کا پہلا طریق موقوف ہو جائےگا؟ سو فرمایا کہ ہاں اور اس کی چند مثالیں بیان کر دیں کہ یہ سب موقوف ہیں۔چنانچہ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى میں ان کی صرف چندمثالیں بیان کی گئی ہیں نہ کہ کل رسوم۔گویا ھَلُّمَ جَرًّا کی طرح کا یہ فقرہ ہے اور مراد یہ ہے کہ اس حکم کے ذریعہ وہ تمام امتیاز مٹا دیئے گئے ہیں جو زمانۂ جاہلیت میں رائج تھے۔اصل بات یہ ہے کہ عربوں میں بعض خاندانوں کو بڑا سمجھا جاتا تھا اور بعض کو چھوٹا۔بعض کو آزاد سمجھا جاتا تھا اور بعض کو غلام اور جب کسی سے کوئی جرم سرزد ہوتا تو وہ لوگ یہ دیکھاکرتے تھے کہ آیا مجرم غلام ہے یا آزاد۔اور اگر غلام ہے تو کسی بڑے آدمی کا غلام ہے یا چھوٹے کا۔مرد ہے یا عورت۔اعلیٰ خاندان میں سے ہے یا ادنیٰ خاندان میں سے امیر ہے یا غریب۔اور سزا میں ان تمام امور کو ملحوظ رکھا جاتا اور آزاد مردوں اور عورتوں کو وہ سزائیں نہ دی جاتیں جو غلام مردوں اور عورتوں کو دی جاتی تھیں۔اسی طرح اعلیٰ خاندانوں کے افراد کو وہ سزائیں نہیں دی جاتی تھیں جو ادنیٰ خاندانوں کے افراد کو دی جاتی تھیں۔چونکہ اسلام نے كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلٰى میں یہ عام حکم دے دیا تھا کہ ہر ایک شخص جو قتل کیاجائے اس کا قاتل لازماً قتل ہو خواہ عورت مرد کو مارے یا مرد عورت کو مارے۔خواہ آزاد غلام کو مارے یا غلام آزاد کو مارے۔خواہ ایک شخص کو جماعت مارے اور خواہ کافر معاہد کو مسلمان مارے اس لئے طبعی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ آئندہ قصاص کیا پہلے طریق پر بھی جو جاہلیت میں رائج تھا لیا جائےگا یا نہیں۔سو اس کا جواب دیا کہ نہیں اور ہرگز نہیں۔وہ امتیازات اب مٹائے جاتے ہیں۔اور اس کے لئے صرف تین مثالیں دے دیں۔باقی مثالیں اس نے چھوڑ دی ہیں۔کیونکہ عربی زبان میں قاعدہ ہے کہ اگر کسی جگہ تین مثالیں بیان ہوں۔تو اس جگہ ھَلُمَّ جَرًّا ساتھ مل جاتا ہے اور سب مثالیں انہی تین مثالوں میں شامل سمجھی جاتی ہیں۔اس جگہ بھی تین مثالوں سے مراد ہر قسم کی مثال ہے اور یہ ہدایت دی گئی ہے کہ خواہ قاتل حُراور مقتول عبد ہو یا قاتل مرد اور