تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 11

نہیں کیا بلکہ جہاد بالسیف قطعی طور پر منسوخ کر دیا۔حالانکہ اگر وہ احادیث پر تھوڑا سا بھی غور کریں تو ان پر واضح ہو جائے کہ دجال پر دلائل کے ذریعے ہی غلبہ حاصل کرنا ضروری ہے ورنہ تلوار کے ذریعہ دجال کی ہلاکت کی خبر کسی حدیث میں نہیں دی گئی۔حُـجَّۃٌ کا لفظ کبھی غلط یا کمزور دلیل کے معنے میں بھی استعمال ہو جاتا ہے بشرطیکہ اس کے ساتھ کوئی قرینہ موجو د ہو۔جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ(الشورٰی:۱۷) یعنی ان کی دلیل ان کے رب کے حضور باطل اور ضائع ہونےوالی ہے۔حُـجَّۃٌ کے معنے خالص دلیل کے بھی ہوتے ہیں جیسے قرآن کریم میں آتا ہے اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِيْ رَبِّهٖۤ(البقرة: ۲۵۹) یعنی کیا تجھے اس شخص کا حال معلوم نہیں جس نے ابراہیم ؑ سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بحث کی تھی۔یہاں صرف دلیل کے معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور اس کا قرینہ یہ ہے کہ دونوں فریق غالب نہیں ہو سکتے۔اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اِلَّا کبھی لٰکِنْ کے معنے میں بھی آتا ہے چنانچہ عربی محاورہ ہے مَالَکَ عَلَیَّ حُـجَّۃٌ اِلَّا اَنْ تَظْلِمَنِیْ اَیْ مَالَکَ عَلَیَّ حُـجَّۃٌ وَلٰکِنَّکَ تَظْلِمُنِیْ(بحر محیط و تفسیرفتح البیان زیر آیت ھٰذا) یعنی تجھے مجھ پر کوئی حجت تو حاصل نہیں ہاں اگر ُتو مجھ پر ظلم کر ے اور خواہ مخواہ اپنے باطل دعوے کو سچا سمجھے تو اور بات ہے۔(۲) کبھی اِلَّا عاطفہ ہوتا ہے یعنی وائو کے قائم مقام ہو کر آتا ہے اور ماقبل کو مابعد کے ساتھ شریک کرتا ہے جیسے لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَنْھُمْ اور لَا یَخَافُ لَدَ یَّ الْمُرْسَلُوْنَ اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوْئٍ میں ہے(مغنی اللبیب)اس لحاظ سے اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا کے معنے ہوں گے وَلَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اور اِلَّا مَنْ ظَلَمَ کے معنے ہوں گے وَلَا مَنْ ظَلَمَ۔یعنی اس صورت میں اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا کے معنے یہ ہوں گے کہ نہ معقول اور نہ غیر معقول لوگ کوئی بھی ایسی دلیل پیش نہیں کر سکتے جس سے وہ لوگوں میں مسلمانوں کے حق پر ہونے کو مشتبہ کر سکیں۔تفسیر۔وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ کے معنے مفسرین نے یہ کئے ہیں کہ تم جہاں کہیں بھی ہو ہر حالت میں اپنا قبلہ مسجدحرام کو ہی رکھو اور اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ پہلے حکم سے یہ خیال پیدا ہو سکتا تھا کہ شاید یہ قبلہ صرف مدینہ والوں کے لئے ہی ہو باقی لوگوں کے لئے نہ ہو اس لئے خدا تعالیٰ نے فرما دیا کہ تم جہاں کہیں سے بھی نکلو اپنے منہ مسجد حرام کی طرف پھیر دو۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ خواہ اس آیت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کیا گیا ہو خواہ تمام مسلمانوں کو اس کے معنے قبلہ کی طرف منہ کرنے کے ہو ہی نہیں سکتے۔اوّل تو اس لئے کہ وہ نمازیں جو کسی شہر یا گائوں میں رہتے ہوئے ادا کی جاتی ہیں شہر سے نکلتے وقت کی نمازوں سے بالعموم زیادہ ہوتی ہیں۔ایسی صورت