تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 10
خَلَعَتِ الطَّاعَۃَ یعنی رعیت نے والی کی اطاعت چھوڑ دی اور بغاوت اختیار کر لی۔(۳) اسی طرح خَرَجَ الْوَالِیْ عَلَی السُّلْطَانِکے معنے ہوتے ہیں تَمَــرَّدَ یعنی والی نے سلطان کے خلاف سرکشی کی۔(اقرب) قتال کے معنوں میں قرآن کریم میں بعض دوسرے مقامات پر بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔چنانچہ سورۃ توبہ آیت ۸۳ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِيَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِيَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِيْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِيْنَیعنی اگر اللہ تعالیٰ تجھ کو اُن میں سے ایک گروہ کی طرف لوٹا لائے اور وہ لوگ تجھ سے خروج کی یعنی کسی آئندہ جنگ میں شامل ہونے کی اجازت مانگیں تو تُو اُن سے کہہ دے کہ تم کو کبھی بھی آئندہ ہمارے ساتھ جنگ پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔اور کبھی بھی تم دشمن سے میرے ہمراہ ہو کر لڑنے نہیں پائو گے۔کیونکہ تم پہلی دفعہ پیچھے بیٹھ رہنے پر راضی ہو گئے تھے۔پس آئندہ ہمیشہ پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ ہی بیٹھ رہا کرو۔یہاں خروج بمعنے قتال آیا ہے جیسا کہ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا سے واضح ہے۔حُـجَّۃ اس لفظ کے معنے عربی زبان میں اس دلیل کے ہوتے ہیں جو انسان کو دوسرے پر غالب کر دے۔قَالَ الْاَ زْھَرِ یُّ اَلْوَجْہُ الَّذِیْ یَکُوْنُ بِہِ الظَّفَرُ یُسَمّٰی حُـجَّۃً۔(لسان العرب) وَفِیْ اَبِی الْبَقَائِ وَمِنْ حَیْثُ الْغَلَبَۃِ عَلَی الْخَصْمِ یُسَمّٰی حُـجَّۃً ( کلّیاتِ ابی البقاء)۔یعنی ازہری کہتے ہیںکہ وہ دلیل جس سے انسان کو کامیابی حاصل ہو اسے حجت کہتے ہیں اور کلیات ابوالبقاء میں لکھا ہے کہ اس کا نام حـُجَّۃٌ اس وجہ سے رکھا گیا ہے کہ اس کے ذریعے دشمن پرغلبہ حاصل ہوتا ہے۔غالب کر دینے والی دلیل کے معنے میںحجۃ کا لفظ حدیث میں بھی استعمال ہوا ہے۔جیسے دجال کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اِنْ یَخْرُجْ وَاَنَا فِیْکُمْ فَاَنَا حَجِیْجُہٗ (ابن ماجہ کتاب الفتن باب فتنة الدجّال و خروج عیسَی بن مریم)۔یعنی اگر دجال نے خروج کیا اور میں تم میں موجود ہوا تو میں وہ دلائل اس کے سامنے پیش کروںگا اور ایسی باتیں اس کے سامنے رکھوں گا کہ و ہ شکست کھا جائے گا۔اس حدیث سے ایک طرف تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حجت کے معنے اس دلیل کے ہوتے ہیں جس سے دشمن ہار جائے اور شکست کھا جائے۔اور دوسری طرف اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دجال سے تلوار کی لڑائی نہیں ہو گی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اُس سے بحث کر کے دلائل کے لحاظ سے فتح پائوںگا نہ کہ تلوار کے زور سے۔پس معلوم ہوا کہ دجال پر حجت کے لحاظ سے غلبہ حاصل کیا جانا مقدر ہے نہ کہ تلوار کے ساتھ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر غیر احمدی علماء اعتراض کیا کرتے ہیں کہ انہوں نے دجال سے تلوار کے ساتھ جنگ کر کے اس کو ہلاک