تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 144
کرادیتا۔(مؤطا کتاب العقول باب ما جاء فی العیلۃ والسحر ) اسی طرح حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ لَایَحِلُّ دَمُ اِمْرِءٍ مُسْلِمٍ یَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَّابِـاِحْدَیْ ثَلَاثٍ اَلثَّیِّبُ الزَّانِیْ وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالتَّارِکُ لِدِیْنِہٖ اَلْمُفَارِقُ لِلْجَمَا عَۃِ (مسلم کتاب القسامة والقصاص باب ما یباح بہ دم المسلم) یعنی صرف تین گناہ ایسے ہیں جن کی بنا پر مسلمان کو قتل کرنا جائز ہے۔اوّل۔شادی شدہ شخص ہو اور پھر زنا کرے۔دوم۔کوئی شخص قاتل ثابت ہو جائے۔سوم۔جو شخص اسلام کو چھوڑ کر جماعت مسلمہ سے الگ ہو جائے۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ صحیح مسلم میں تو صرف یہی الفاظ بیان کئے گئے ہیں مگر نسائی میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ رَجُلٌ یَخْرُجُ مِنَ الْاِسْلَامِ یُحَارِبُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَ رَسُوْلَہٗ فَیُقْتَلُ اَوْ یُصَلَّبُ اَوْ یُنْفٰی مِنَ الْاَرْضِ۔(النسائی کتاب تحریم الدم باب الصلب ) یعنی وہ شخص جو اسلام کو چھوڑ کر مسلمانوں سے جنگ شروع کر دے۔اس کے متعلق جائز ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے یا صلیب پر لٹکا دیا جائے یا اُسے جلا وطن کر دیا جائے۔یہ حدیث بتاتی ہے کہ عورت مرد کی کوئی خصوصیت نہیں بلکہ جو بھی قتل کرےگا اسے قتل کیا جائےگا اور جان کے بدلہ جان لی جائےگی۔اسی طرح مسند احمد بن جنبل، بخاری، نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ مُعَاھِدًا لَمْ یَرِحْ رَائِـحَۃَ الْجَنَّۃِ (ابن ماجہ کتاب الدّیات باب من قتل معاھدا) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی کافر معاہد کو مار دے وہ جنّت کی خوشبو نہیں سونگھے گا۔اور یہی سزا قرآن کریم میں ایک مسلمان کے قاتل کی بیان کی گئی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا(النساء: ۹۴) یعنی جو شخص کسی مومن کو دیدہ دانستہ قتل کر دے اس کی سزا جہنم ہو گی وہ اس میں دیر تک رہتا چلا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا اور اُسے اپنے قرب سے محروم کر دےگا اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کرےگا۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی اس کی تائید کرتا ہے۔چنانچہ ابو جعفر طحاوی اپنی کتاب ’’شرح معانی الآثار‘‘ میں لکھتے ہیں اِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اُتِیَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ قَدْ قَتَلَ مُعَاھِدًا مِنْ اَھْلِ الذِّمَّۃِ فَاَمَرَ بِہٖ فَضُرِبَ عُنُقُہٗ وَقَالَ اَنَا اَوْلٰی مَنْ وَفٰی بِذِ مَّتِہٖ (شرح معانی الآثار کتاب الجنایات باب المؤمن یقتل الکافر متعمدا)یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مسلمان لایا گیا جس نے ایک معاہد کا فر کو جو اسلامی حکومت کی رعایا بن چکا تھا قتل کر دیا تھا۔آپ نے اس کے قتل کئے جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں عہد پورا کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ عہد کی نگہداشت رکھنے والا ہوں اسی طرح طبرانی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت روایت کی