تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 145

ہے کہ ایک مسلمان نے ایک ذمّی کو قتل کر دیا تو آپ نے اس مسلمان کے قتل کئے جانے کا حکم دے دیا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ لَا یُقْتَلُ مُوْمِنٌ بِکَافِرٍ کہ کوئی مومن کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائےگا۔مگر ساری حدیث دیکھنے سے بات حل ہو جاتی ہے۔حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں کہ لَا یُقْتَلُ مُوْمِنٌ بِکَافِرٍ وَلَا ذُوْعَھْدٍ فِیْ عَھْدِہٖ (ابن ماجہ کتاب الدیات باب لا یقتل مسلم بکافر)۔اس حدیث کا یہ دوسرا فقرہ کہ وَلَاذُوْ عَھْدٍ فِیْ عَھْدِہٖ اس کے معنوں کو حل کر دیتا ہے اگر اس کے یہ معنے ہوں کہ کافر کے بدلہ میں مسلمان نہ مارا جائے تو پھر ذُوْ عَھْدٍ کے یہ معنے کرنے ہوںگے کہ وَلَا ذُوْ عَھْدٍ بِکَافِرٍ کہ کسی ذوعہد کو بھی کافر کے بدلہ میں قتل نہ کیا جائے۔حالانکہ اسے کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔پس یہاں کافر سے مراد محارب کافر ہے نہ کہ عام کافر۔تبھی فرمایا کہ ذمّی کافر بھی محارب کافر کے بدلہ میں نہیں مارا جائےگا۔اب ہم صحابہؓکا طریق عمل دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ صحابہؓ بھی غیر مسلم کے مسلم قاتل کو قتل کی سزا ہی دیتے تھے۔چنانچہ طبری جلد ۵ صفحہ ۴۴میں قماذبان ابن ہر مزان اپنے والد کے قتل کا واقعہ بیان کرتاہے۔ہرمزان ایک ایرانی رئیس اور مجوسی المذہب تھا اور حضرت عمر ؓ خلیفہ ثانی کے قتل کی سازش میں شریک ہونےکا شبہ اس پر کیا گیا تھا۔اس پر بلا تحقیق جوش میں آکر عبید اللہ بن عمرؓ نے اس کو قتل کر دیا وہ کہتا ہے کَانَتِ الْعَجْمُ بِالْمَدِیْنَۃِ یَسْتَرُوْحُ بَعْضُھَا اِلیٰ بَعْضٍ فَـمَرَّ فَیْرُوْز بِاَبِیْ وَمَعَہٗ خَنْجَرٌ لَہٗ رَأْسَانِ فَتَنَاوَلَہٗ مِنْہُ۔وَقَالَ مَاتَصْنَعُ بِھٰذَافِیْ ھٰذِہِ الْبِلَادِ فَقَالَ اَ بُسُّ بِہٖ فَرَاٰ ہُ رَجُلٌ فَلَمَّا اُصِیْبَ عُمَرُ قَالَ رَاَیْتُ ھٰذَا مَعَ الْھُرْمَزَانِ دَفَعَہٗ اِلٰی فَیْرُوْزَ فَاَقْبَلَ عُبَیْدُ اللّٰہِ فَقَتَلَہٗ فَلَمَّاوُ لِّیَ عُثَمَانُ دَعَانِیْ فَاَمْکَنَنِیْ مِنْہُ ثُمَّ قَالَ یَا بُنَیَّ ھٰذَا قَاتِلُ اَبِیْکَ وَاَنْتَ اَوْلٰی بِہٖ مِنَّا فَاذْھَبْ فَاقْتُلْہُ فَخَرَجْتُ بِہٖ وَ مَافِی الْاَرْضِ اَحَدٌ اِلَّا مَعِیَ اِلَّا اِنَّھُمْ یَطْلُبُوْنَ اِلَیَّ فِیْہِ فَقُلْتُ لَھُمْ أَلِیْ قَتْلُہٗ قَالُوْا نَعَمْ وَسَبُّوْا عُبَیْدَ اللّٰہِ فَقُلْتُ اَفَلَکُمْ اَنْ تَمْنَعُوْہُ قَالُوْا لَا وَسَبُّوہُ فَتَرَکْتُہٗ لِلّٰہِ وَلَھُمْ۔فَا حْتَمَلُوْنِیْ فَوَ اللّٰہِ مَابَلَغْتُ الْمَنْزِلَ اِلَّا عَلٰی رُئُ وْسِ الرِّجَالِ وَاَکُفِّھِمْ۔(تاریخ الطبری،سنۃ ۲۴ ھ) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ایرانی لوگ مدینہ میں ایک دوسرے سے ملے جُلے رہتے تھے (جیسا کہ قاعدہ ہے کہ دوسرے ملک میں جاکر وطنیت نمایاں ہو جاتی ہے) ایک دن فیروز (قاتلِ عمرؓ خلیفہ ثانی) میرے باپ سے ملا اور اس کے پاس ایک خنجر تھا جو دونوں طرف سے تیز کیا ہوا تھا۔میرے باپ نے اس خنجر کو پکڑ لیا اور اس سے دریافت کیا کہ اس ملک میں تو اس خنجر سے کیا کام لیتا ہے(یعنی یہ ملک تو امن کا ملک ہے اس میں ایسے ہتھیاروں کی کیا ضرورت ہے؟) اُس نے کہا کہ میں اس سے اونٹ ہنکانے کا کام لیتا ہوں۔جب وہ دونوں آپس میں باتیں کر رہے تھے اُس وقت