تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 138

اوپر ایک اور درجہ ہے اور وہ یہ کہ اس کے اس انفاق میں خالص اللہ تعالیٰ کی محبت کام کر رہی ہو۔وہ اس وجہ سے مال خرچ نہ کرے کہ اسے مال خرچ کرنے کی عادت ہو چکی ہے یا اُسے اپنے غریب بھائیوں سے محبت ہے بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا اس کے پیش نظر ہو اور اس کی خوشنودی کے حصول کے لئے وہ دوسروں سے حسنِ سلوک کرے۔یہ سب سے اعلیٰ درجہ ہے اور اسے صوفیاء نے اتنا بڑھایا ہے کہ ان میں سے بعض نے یہاں تک کہا ہے کہ ہمیں نہ جنت کی ضرورت ہے نہ دوزخ کی بلکہ صرف خدا تعالیٰ کی ضرورت ہے۔اگر خدا تعالیٰ دوزخ میں پڑنے سے ملتا ہو تو ہم اس میں بھی جانے کے لئے تیار ہیں۔یہ بہت بلند مقام ہے۔کیونکہ اس مقام پر سوائے خدا تعالیٰ کے اور کوئی چیز انسان کے سامنے نہیں رہتی صرف خدا ہی خدا رہ جاتا ہے اور اس کا حُسن انسان پر اس قدر مستولی ہو جاتا ہے کہ اس کے سوا کوئی اور چیز اُسے نظر ہی نہیں آتی۔اب سوال پیدا ہوتا تھا کہ وہ خدا کی محبت کے لئے کہاں خرچ کرے۔سو اس کی تشریح بھی کر دی اور بتایا کہ (۱) وہ قرابت والوں کو دے اس لئے کہ انسان پر ان کا بڑا حق ہوتا ہے۔مثلاً ماں باپ ہیں جو بچوں کی پرورش اور ان کی نگہداشت کے لئے اتنی بڑی قربانیاں کرتے ہیں جن کی مثال کسی اور جگہ نہیں مل سکتی۔اسی طرح دوسرے رشتہ دار اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ اگر وہ حاجت مند ہوںتو ان کی امداد کی جائے اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔(۲) پھر فرمایا کہ وہ یتامیٰ کو دے چونکہ ان کی خبر گیری کرنےوالا کوئی نہیں ہوتا اس لئے ان کے حقوق کو مدِّنظر رکھنے کی تعلیم دی۔(۳) تیسرے نمبر پر مساکین کو رکھا جن کے پاس اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مال بھی نہیں ہوتا۔اور وہ لوگوں کے سامنے دست سوال بھی دراز نہیں کرتے۔گویا وہ اس آیت کے مصداق ہوتے ہیں کہلَا يَسْـَٔلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا (البقرة:۲۷۴)۔وہ غربت کے باوجود اپنے اندر اخلاقی بلندی رکھتے ہیں اور اپنے و قار کو قائم رکھنے کے لئے دوسروں سے مانگنے کی ذلت برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔(۴) چوتھے نمبر پر مسافر کو رکھا۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے غربت کی شرط نہیں لگائی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں غریب مسافروں کی امداد کرنا ضروری ہوتا ہے وہاں اگر کسی آسودہ حال مسافر کی مدد کرنی پڑے تو اس سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ممکن ہے وہ مالدار تو ہو مگر راستہ میں اس کا مال ضائع ہو گیا ہو۔اگر ایسا ہو تو وہ بطور حق بھی لے سکتا ہے اور کوئی چیز گرو رکھ کر بھی اپنی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔اسی طرح حکومت کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ ملکی اور غیر ملکی مسافروں اور سیاحوں کے لئے ہر قسم کی سہولتیں بہم پہنچائے اور ان کی مشکلات کو دُور کرنے کی کوشش کرے۔اس کے بعد پانچویں نمبر پر سائل کو رکھا۔اس کی نسبت کہا جا سکتا ہے کہ اگر وہ غریب اور مفلس ہے تو اُسے ابن السبیل کے بعد