تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 139

کیوں رکھا ہے؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام نے سوال کرنا پسندیدہ قرار نہیں دیا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ جس شخص کے پاس ایک وقت کا کھانا ہے اور پھر بھی وہ سوال کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول لیتا ہے(ابوداؤدکتاب الزکٰوة من یوتی من الصدقۃ ) اسی طرح حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ ایک سائل کو دیکھا جس کی جھولی آٹے سے بھری ہوئی تھی اور پھر بھی وہ لوگوں سے مانگتا پھرتا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا اور آپ نے اس سے آٹا چھین کر اونٹوں کے آگے ڈال دیا اور فرمایا۔اب مانگ۔(سیرت عمر ابن الخطاب لابن المجوزی باب ۶۰ صفحہ ۱۷۰) آپ کی اس سے غرض یہ تھی کہ وہ لوگوں کے لئے بار نہ بنے بلکہ خود کام کرے اور دوسروں سے مانگ کر کھانے کی ذلّت سے بچے۔پس چونکہ اسلام نے مانگ کر کھانا ناپسند کیا ہے اس لئے یہ بتانے کےلئے کہ سوال کرنا ایک ناپسندیدہ امر ہے سائل کو سب سے آخر میں رکھا۔اسلام چاہتا ہے کہ مسلمانوں میں اعلیٰ درجہ کے اخلاق پیدا ہوں اور بجائے اس کے کہ لوگ سوال کرتے پھریں۔وہ خود لوگوں کی ضروریات کا پتہ لگا کر ان کو پورا کیا کریںتاکہ ان کے لئے سوال کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔وَ فِي الرِّقَابِ۔آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر روپیہ خرچ کرنے کا ذکر کیا ہے جو قید میں پڑے ہوئے ہوں۔اس جملہ میں ایک مضاف محذوف ہے جو فَکٌّ کا لفظ ہے۔یعنی اصل عبارت یوں ہے کہ وَفِیْ فَکِّ الرِّقَابِ۔اس گروہ کو پیچھے رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں میں زیادہ تر غیر مذاہب کے ہی قیدی ہو سکتے ہیں۔اور قاعدہ ہے کہ اقرب کا حق دوسروں سے مقدم ہوتا ہے۔ابن السبیل کو تو مہمان کے طور پر رکھا ہے کہ خواہ وہ کافر ہو اُسے بھی دو مگر قیدی تو ایسے ہی لوگ ہوںگے جو مسلمانوں کے مقابلہ میںلڑائی کے لئے آئے ہوںگے اس لئے فِي الرِّقَابِ کو بعد میں رکھا۔لیکن یہ بھی اسلام کا کتنا بڑا احسان ہے کہ وہ اُسی شخص کے متعلق جو مسلمانوں کو مارنے کے لئے آیاتھا کہتا ہے کہ اسے روپیہ دے کر آزاد کرادو۔اسی طرح فِي الرِّقَابِ میں قرضدار اور ضامن کو امداد دینا بھی شامل ہے۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ہر قسم کے صدقات دیئے لیکن غلام آزاد کرنے کاموقعہ نہیں ملا۔میں جب حج کے لئے مکہ گیا تو آپ نے مجھے فرمایا کہ اگر سو دو سو روپیہ میں کوئی غلام مل جائے تو میری طرف سے آزاد کر دینا مگر مجھے کوئی غلام نہ ملا لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی بھی توفیق عطا فرما دی۔چنانچہ مرزا محمد اشرف صاحب محاسب صدر انجمن احمدیہ کی روایت ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ نے دو غلام آزاد کر وا دیئے تھے۔