تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 124

اپنی مغفرت کے دامن میں لے لے۔اگر وہ سچے دل سے ایسا کرےگا تو وہ اللہ تعالیٰ کو غفور اور رحیم پائے گا اور آئندہ اس قسم کے حالات میں مبتلا ہونے سے محفوظ ہو جائے گا۔ایک صحابیؓ کا واقعہ ہے انہیں جنگ میں پکڑ کر اور قید کر کے قیصر کے پاس بھیجا گیا۔اس نے چاہا کہ انہیں قتل کر دے مگراس کے مصاحبوں نے کہا کہ قتل نہیں کرنا چاہیے۔کیونکہ مسلمان بھی ہمارے قیدیوں کو قتل نہیں کرتے اور اگر عمرؓکو پتہ لگ گیا کہ اُن کے ایک آدمی کو قتل کیا گیا ہے تو وہ اس کا سختی سے انتقام لیں گے۔قیصر نے کہا میں تو چاہتا ہوں کہ اسے ایسی سزا دوں جو دوسروں کے لئے باعثِ عبرت ہو۔اس پر انہوں نے کہا۔اسے سؤر کا گوشت کھلانا چاہیے۔چنانچہ انہوں نے اس صحابیؓ کو چند دن بھوکا رکھا اور پھر سؤر کا گوشت کھانے کو دیا اس نے کھانے سے سختی سے انکار کر دیا وہ اُسے کھانے پر مجبور کر رہے تھے کہ قیصر کے سر میں شدید درد شروع ہوگئی جس کا اُن سے کوئی علاج نہ ہو سکا۔اس کے مصاحبوں نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے یہ اس شخص کو تکلیف دینے کی وجہ سے ہے۔آخر یہ قرار پایا کہ مسلمانوں کے خلیفہ کو دُعا کے لئے لکھا جائے۔اور چونکہ ایسی صورت میں ان کے لئے یہ مناسب نہ تھا کہ ایک مسلمان پر وہ ایسی سختی کریں ورنہ دعا مشکل تھی۔اس لئے وہ مجبور ہو کر اُسے کھانا دینے لگ گئے پس جو لوگ ایمان میں پختہ ہوتے ہیں خدا تعالیٰ ان پر ایسا موقعہ ہی نہیں لاتا کہ انہیں حرام چیز کھانی پڑے۔خدا تعالیٰ خود ان کے لئے ہر قسم کی خیرو برکت کے سامان مہیا کر دیتا ہے۔اس کادوسرا جواب یہ ہے کہ اگر کسی موقعہ پر انتہائی مجبوری کی وجہ سے مردار یا سؤر کا گوشت استعمال کر لیا جائے تو جن زہریلے اثرات کی وجہ سے شریعت نے ان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے وہ بہر حال ایک مومن کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ان نتائج کا تدارک اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ انسان غفور اور رحیم خدا کا دامن مضبوطی سے پکڑلے اور اُسے کہے کہ اے خدا! میں نے تو تیری اجازت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی جان بچانے کے لئے اس زہریلے کھانے کو کھالیا ہے لیکن اب تو ہی فضل فرما اور ان مہلک اثرات سے میری روح اور جسم کو بچا جو اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔اسی حکمت کے باعث آخر میں اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ کہاگیا ہے۔تاکہ انسان مطمئن نہ ہوجائے بلکہ بعد میں بھی وہ اس کی تلافی کی کوشش کرتا رہے اور خدا تعالیٰ سے اُس کی حفاظت طلب کرتا رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے غالباً شریعت کی اسی رخصت کو دیکھتے ہوئے ایک دفعہ فرمایا کہ اگر کسی حاملہ عورت کی حالت ایسی ہو جائے کہ مرد ڈاکٹر کی مدد کے بغیر اُس کا بچہ پیدا نہ ہو سکتا ہو اور وہ ڈاکٹر کی مدد نہ لے اور اُسی حال میں مر جائے تو اس عورت کی موت خود کشی سمجھی جائے گی اسی طرح اگرانسان کی ایسی حالت ہو جائے کہ