تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 118
نے منع کیا ہے وہ حرمت میں ان سے نسبتاً کم ہیں اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے احکام میں ان کی مثال فرض اور واجب اور سنت کی سی ہے حرام تو بمنزلہ فرض کے ہے اور منع بمنزلہ واجب کے۔جس طرح فرض اور واجب میں فرق ان کی سزائوں کے لحاظ سے کیا جاتا ہے اسی طرح جن اشیاء کی حرمت قرآن کریم میں آئی ہے اگر انسان اُن کو استعمال کرے گا تو اس کی سزا زیادہ سخت ہو گی اور جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ان کے استعمال سے اس سے کم درجہ کی سزا ملے گی لیکن بہر حال دونوں جرم قابل گرفت اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہوں گے۔حرام فعل کا ارتکاب کرنے سے انسان کے ایمان پر اثر پڑتا ہے اور اس کا نتیجہ لازماً بدی ہوتی ہے۔لیکن دوسری چیزوں کے استعمال کا نتیجہ لازماً بدی اور بے ایمانی کے رنگ میں نہیں نکلتا۔چنانچہ دیکھ لو۔مسلمانوں میں سے بعض ایسے فرقے جو ان اشیاء کو مختلف تاویلات کے ذریعے جائز سمجھتے اور انہیں کھالیتے ہیں جیسے مالکی ان کا اثر ان کے ایمان پر نہیں پڑتااور اُن میں بے ایمانی اور بدی پیدا نہیں ہوتی۔بلکہ گذشتہ دور میں تو ان میں اولیاء اللہ بھی پیدا ہوتے رہے ہیں۔لیکن خنزیر کا گوشت یا مُردار کھانے والا کوئی شخص ولی اللہ نظر نہیں آئےگا۔پس حرمت کے بھی مدارج ہیں اور ان چاروں حرام چیزوں کے سوا باقی تمام ممنوعات ہیں جن کو عام اصطلاح میں حرام کہا جاتا ہے ورنہ قرآنی اصطلاح میں وہ حرام نہیں ہیں۔دراصل ایک حرمت ایسی ہے۔جو صرف لُغتاً حرمت کہلاتی ہے اس لحاظ سے ہر وہ چیزجس سے کسی دوسرے کو منع کر دیا جائے حرام کہلائےگی۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی منع کی ہوئی چیزیں ہیں۔لیکن قرآنی اصطلاح میں صرف یہی چار چیزیں حرام ہیں۔اس آیت میںمُردار کھانے سے اللہ تعالیٰ نے اس لئے روکا ہے کہ مردار کا خون بہت سی زہروں پر مشتمل ہوتا ہے اور مُردار کی نسبت اغلب گمان یہی ہوتا ہے کہ وہ بیماری سے یا زہر سے یا زہریلے جانوروں کے کاٹے سے مرا ہو۔یا بالکل بوڑھا ہو کر مرا ہو۔اور یہ سب حالتیں ایسی ہیں کہ ان میں جانور کا گوشت استعمال کرنے کے قابل نہیں رہتا اور اگر گِر کر یا کسی اور صدمہ سے مرا ہو تب بھی قاعدہ ہے کہ سخت صدمہ کا اثر فوراً خون میں زہر پیدا کر دیتا ہے۔پس درحقیقت کھانے کے قابل صرف وہی گوشت ہوتا ہے جو ذبح کئے ہوئے جانور کا ہو ورنہ اُس کا لازماً بد اثر ہو گا اور یہ چیز صرف خیالی نہیں بلکہ موجودہ طبّ نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ خواہ کوئی جانور عمر طبعی پا کر بوجہ بڈھا ہونے کے مرے یا کسی اونچے مقام سے گر کر ہلاک ہو یا کسی صدمہ سے جانبر نہ ہو سکے یا کسی بیماری کا شکار ہو اس کے خون میں کئی قسم کے خطرناک جراثیم اور کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔چنانچہ میڈیکل جیورس پروڈنسMIDICAL JURISPRUDENCE جو ڈاکٹری کی ایک مشہور کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ مردہ کے گوشت میں بہت جلد