تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 115
کمزوریوں کو مدِّنظر رکھتے ہوئے یہ حکم دیا کہكُلُوْا مِمَّا فِي الْاَرْضِ حَلٰلًا طَيِّبًا یعنی جو کچھ حلال اور طیّب ہے کھائو۔کیونکہ ہو سکتا تھا کہ وہ صرف طیّبا ت تک اپنے آپ کو محدود نہ رکھ سکتے بلکہ خالص حلّت و حرمت کے دائرہ کے اندر ہی رہنا چاہیں اور زیادہ پابندیاں اپنے لئے برداشت نہ کر سکیں لیکن یہاں خاص درجہ کے مومنوں کو مدِّنظر رکھتے ہوئے حکم دیا کہ كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ تم صرف وہ طیبات استعمال کرو جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پہلے حکم کے نتیجہ میں فرمایا تھا کہ تم شیطان کے پیچھے چلنے سے بچ جائو گے لیکن یہاں یہ فرمایا کہ اگر تم صرف طیبات ہی استعمال کر و گے تو اس کے نتیجہ میں تم اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لا سکو گے۔یعنی تمہیں ایسے نیک اعمال کی توفیق ملے گی جو تمہاری روح کو اللہ تعالیٰ کے آستانہ کی طرف کھینچ کر لے جائیں گے۔جیسے دوسرے مقام پر وضاحتاً فرمایا کہيٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا (المؤمنون: ۵۲) یعنی اے ہمارے رسولو! تم طیبات کھائو اور مناسب حال اعمال بجا لائو۔گویا اسلام نے انسانی اعمال اور اخلاق پر غذا کے اثرات کو واضح طور پر تسلیم فرمایا ہے اور مسلمانوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس نقطہ کو ہمیشہ مدِّنظر رکھیں اور غذائی معاملات میں طیّبات کو ترجیح دیا کریں تاکہ ان کے اخلاق بھی متوازن رہیں اور ان میں ناواجب اونچ نیچ کا کوئی پہلو دکھائی نہ دے۔غرض یہاں اعلیٰ درجہ کے ایمان کے مناسب حال كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ فرمایا۔اور جب انسان طیبات پر حصر کرلےگا تو نہ صرف یہ کہ وہ منہیات سے بچ جائےگا بلکہ وہ صالحات کی بھی توفیق پائےگا۔پس اعلیٰ درجہ کے مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر حلال بھی نہ کھائے بلکہ خاص طور پر طیّب کو مدنظر رکھے یا پھر اس آیت میں صرف طیب کو اس لئے بیان کر دیا کہ حلال اسی میں آجاتا ہے۔اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَ اس نے تم پر صرف مردار، خون، سؤر کے گوشت کو اور ان چیزوں کو جنہیں اللہ کے سوا کسی اور سے نامزد کردیا مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ ہو حرام کر دیا ہے۔مگر جو شخص (ان اشیاء کے استعمال پر) مجبور ہو جائے اور وہ نہ تو قانون کا مقابلہ کرنے والا ہو فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۱۷۴ اور نہ حدود سے آگے نکلنے والا ہو اس پر کوئی گناہ نہیں۔اللہ یقیناً بڑا بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔حل لغات۔اَلْمَیْتَۃُ اَلْمَیْتَۃُ مَالَمْ تَلْحَقْہُ الزَّ کٰوۃُ۔وَالْحَیَوَانُ الَّذِیْ یَمُوْتُ حَتْفَ اَنْفِہٖ (اقرب)