تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 110
کی تعلیم ان دونوں امور سے خالی ہے۔نہ عقل کے مقابلہ میں ٹھہرتی ہے اور نہ آسمانی شہادت اُس کی تائید میں ہے۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ لوگ اپنے باپ دادا سے دین کے بارے میں تو اختلاف نہیں کرنا چاہتے لیکن دنیوی امور کے بارہ میں وہ روزانہ اُن سے اختلاف کرتے ہیں۔ہزار ہا مثالیں اس امر کی پائی جاتی ہیں کہ دنیوی امور میں لوگوں نے اپنے باپ دادا کی اقتداء نہیں کی بلکہ انہوں نے صرف یہ دیکھا کہ اُن کا فائدہ کس امر میں ہے۔وہ روزانہ ریلوں میں چڑھتے ہیں اور کبھی یہ نہیں کہتے کہ ہمارے باپ دادا تو گدھوں پر سوار ہوتے تھے ہم ریل گاڑیوں پر کیوں سوار ہوں؟ اسی طرح عقلی اور علمی باتوں میں ان کی پیروی نہیں کرتے بلکہ نئی روشنی کے علوم سے فائدہ اُٹھاتے اور ان کے پیچھے چلتے ہیں۔مگر دین کا معاملہ ہو تو ان کے باپ دادے بڑے عقلمند بن جاتے ہیں۔حالانکہ خود اُن کا عمل اس طریق کے خلاف گواہی دے رہا ہوتا ہے مگر ایسی صاف اور موٹی بات بھی جب ان کے سامنے رکھی جاتی ہے تو وہ اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے اور صداقت سے منہ پھیر لیتے ہیں۔وَ مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اور ان لوگوں کا حال جنہوں نے کفر کیا ہے اس شخص کے حال کے مشابہ ہے جو اس چیز کو پکارتا ہے جو سوائے پکاراور اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ۰۰۱۷۲ آواز کے کچھ نہیں سنتی۔(یہ لوگ) بہرے گونگے اور اندھے ہیں اس لئے سمجھتے نہیں۔حلّ لُغات۔یَنْعِقُ نَعَقَ سے مضارع کا صیغہ ہے اور نَعَقَ الرَّاعِیْ بِغَنَمِہٖ کے معنے ہیں صَاحَ بِھَا وَ زَجَرَھَا۔چروا ہے نے اپنی بکریوں کو آواز دی اور اُن کو ڈانٹا۔اور جب نَعَقَ الْغُرَابُ کہیں تو معنے ہوںگے صَاحَ کوّے نے کائیں کائیں کی۔اور نَعَقَ الْمُؤَذِّنُ کے معنے ہیں رَفَعَ صَوْتَہٗ بِا لْاَ ذَانِ۔مؤذن نے اذان کے لئے اپنی آواز بلند کی۔(اقرب) نِدَآءٌ اَلنِّدَاءُ کے معنے ہیں رَفْعُ الصَّوْتِ وَ ظُھُوْرُ ہٗ۔آواز کا بلند اور واضح ہونا۔(اقرب) تفسیر۔زیرتفسیر آیت ایک تمثیلِ مرکب ہے جس میں حذفِ مضاف سے کام لیا گیا ہے اور دَاعِی کا لفظ اس میں محذوف ہے۔یعنی اصل عبارت یوں ہے کہ مَثَلُ دَاعِی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کفار کے داعی ہیں۔آپ کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو جانوروں کو اپنی طرف بلانے