تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 7

کی بات نظر آئے تو وہ یہ دیکھے بغیر کہ یہ کلمہ حکمت کسی کافر کے منہ سے نکلا ہے یا منافق کے منہ سے فوراً اسے اپنی کھوئی ہوئی چیز سمجھ کر حاصل کرنے کی کوشش کرے۔گویا جس طرح ایک کھویا ہوا بچہ اُسے نظر آجائے تو وہ فوراً اسے پکڑنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح وہ بھی لپک کر اس خوبی کو لے لے اور کہے کہ اوہو! یہ تو میری ہی چیز تھی افسوس کہ اسے کافر یا منافق لے گیا۔اب یہ میرا کام ہے کہ میں اپنی گمشدہ متاع واپس لوں اور اس خوبی کو اپنے اندرپیدا کرنے کی کوشش کروں۔دُنیا میں بہت سی خرابیاں محض اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ جس کسی کے پاس جتنی نیکی ہوتی ہے وہ اسی پر فخر کرنے بیٹھ جاتا ہے اور مزید خوبیاں اپنے اندر جمع کرنے کی کوشش نہیں کرتا اوراگر دشمن میں اُسے کوئی خوبی نظر آتی ہے تو کینہ اور بُغض اور حسد کی وجہ سے وہ اسے بھی بُرا قرار دینے کی کوشش کرتاہے اور یہ نہیں سمجھتا کہ اس کے ایسا کرنے سے دشمن کا تو کوئی نقصان نہیں اس کے پاس تو وہ خوبی ہے ہی نقصان اس کا اپنا ہے۔کیونکہ بُغض کی وجہ سے وہ اس خوبی کو حاصل نہیں کرسکے گا پس مومن کا کام ہے کہ وہ ہر خوبی اپنے اندر پیدا کرے۔اور ہر خوبی میں دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کرے۔یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اسلام نے اس طرح حسد کی بنیاد رکھی ہے کیونکہ امورِ دینیہ اور امور دنیویہ میں یہ مقابلہ ضروری ہے اس کے بغیر کامل ترقی کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔تمام ترقی کی بنیاد ہی مقابلۂ اقوام و افراد ہے۔خود غرضی کی جڑ شریعت اسلام نے کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ(آل عمران:۱۱۱)کہہ کر اُکھاڑ دی ہے کیونکہ مومن کا فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ جس درجہ تک پہنچے اس پر فوراً دوسروں کو بھی پہنچائے۔کیونکہ اس کی غرض ہی دوسروں کو نفع پہنچانا ہے۔اسی طرح فرماتا ہے۔وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ( اٰل عمران :۱۰۵) یعنی تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جس کاکام صرف یہ ہو کہ وہ لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے۔اور اچھی باتوں کی تعلیم دے اور بُرائیوں سے روکے۔اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔پس جس خیر کو بھی مومن حاصل کرےگا وہ فوراً دوسروں کو بلائے گا کہ جلد آئو اور اس چیز کو حاصل کرو۔گویا مومنوں کا یہ فرض ہے کہ وہ جب آگے بڑھیں تو پچھلوں کو بھی کھینچ کر اپنے ساتھ ملا لیں۔پھر آگے بڑھیں تو جو لوگ پیچھے رہ جائیں ان کو دوبارہ کھینچ کر اپنے ساتھ شامل کر لیں۔پھر دوڑیں اور اس طرح جو پیچھے رہ جائیں ان کو اپنے ساتھ شامل کریں اور پھر سارے مل کر نیکیوں کے میدان میں دوڑیں۔اس پر پھر جو اُن میں سے آگے نکل جائیں وہ پچھلوں کو کھینچ کر اپنے ساتھ ملا لیں۔اور اس طرح ایک دوڑ جاری رہے۔نیکیوں میں سبقت لے جانے والے سبقت لے جائیں اور پیچھے رہ جانے والوں کو ساتھ ملالیں۔پھر ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں اور پھر