تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 103
گے کہ خدایا ہمارا ان سے کوئی تعلق نہ تھا۔اور اس طرح ان سے اپنی برأت اور نفرت کا اظہار کریںگے اور خدائی عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔وَتَقَطَّعَتْ بِھِمُ الْاَسْبَابُ۔اور ان کی نجات کے تمام ذرائع منقطع ہو جائیں گے۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ باء بمعنے عَنْ بھی آتی ہے اور باء بمعنے سبب بھی آتی ہے۔اور باء تعدیہ کے لئے بھی استعمال کی جاتی ہے یعنی فعل لازم کو متعدی بنانے کے لئے بھی استعمال کی جاتی ہے۔پہلی صورت میں عَنْ کے مفہوم کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اس آیت کا یہ مطلب ہو گا کہ ان کے اسباب ان سے کٹ جائیں گے یعنی وہ چیزیں جو ان کے پاس تھیں اور جن کی نسبت وہ خیال کیا کرتے تھے کہ ہم ان کی وجہ سے خدا تعالیٰ تک پہنچ جائیںگے یا وہ قرابتیں اور محبتیں جو رشتہ داری کی وجہ سے انہیںحاصل تھیں وہ سب کی سب کٹ جائیںگی اور ان کے تمام سہارے جاتے رہیں گے۔باء کے معنے سبب لینے کی صورت میں یہاں ایک محذوف ماننا پڑے گا اور عبارت یوں ہو گئی کہ وَتَقَطَّعَتْ بِسَبَبِ کُفْرِ ھِمُ الْاَسْبَابُ کہ ان کے کفر کی وجہ سے اُن کے تمام ذرائع کامیابی جاتے رہیں گے۔اور وہ تباہ ہو جائیںگے۔تیسری صورت میں اس کا یہ مطلب ہو گا کہ جن چیزوں کو وہ خدا تعالیٰ کے وصال کا ذریعہ قرار دیتے ہیں یا وہ ذرائع جن کو وہ خدا تعالیٰ تک پہنچانے والا سمجھتے ہیں وہی ان کو کاٹ دیں گے اور ان کی تباہی کا موجب بن جائیںگے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ (الانعام: ۱۵۴) کہ تم مختلف راستوں کے پیچھے نہ پڑو۔ورنہ وہ تمہیں صحیح راستہ سے منحرف کر دیںگے اور تمہیں ادھر اُدھر لے جا کر تباہ کر دیںگے۔وَ قَالَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا اور جو لوگ (ائمہ کفر کے) فرمانبردار تھے کہیں گے کہ کاش ! ہمیں ایک دفعہ (پھر دنیا میں ) واپس جانا (نصیب )ہوتا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ يُرِيْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ تو ہم بھی ان (ائمہ کفر) سے الگ ہو جاتے جس طرح (آج) یہ ہم سے الگ ہو گئے۔اس طرح اللہ انہیں بتائے گا