تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 102

چیرا پھاڑا۔اس لئے خدا تعالیٰ ان کی سزا کے لئے سانپوں اور بچھوئوں کو ہی اُن پر مسلّط کر دےگا اور انہیں اپنے اعمال کی سزا دےگا۔یہ آیت اپنے مضمون کے لحاظ سے پہلی آیت سے نہایت گہرا تعلق رکھتی ہے۔بلکہ درحقیقت یہ دونوں آیات ایک ہی مضمون کی حامل ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ باوجود ان دلائل کے جو حق و باطل میں فرق کرنے والے ہیں اور باوجود اس کے کہ دنیا کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا ثبوت دے رہا ہے اور باوجود اس کے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی تقدیر خاص کو بھی دیکھ رہے ہیں جو مومنوں کے حق میں جاری ہے پھر بھی یہ لوگ خدا تعالیٰ کے نِدّ قرار دے رہے ہیں اور ان سے ایسی ہی محبت کرتے ہیں جیسی خدا تعالیٰ سے کرنی چاہیے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لوگ تباہ ہونے والے ہیں۔اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ (اور کاش کہ وہ لوگ اس وقت کو دیکھ لیتے)جب وہ لوگ جن کی فرمانبرداری کی جاتی تھی ان لوگوں سے جو فرمانبردار وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ۰۰۱۶۷ تھے الگ ہو جا ئیں گے اور عذاب کو (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیں گے۔اور ان کے (شرک کی وجہ سے نجات کے) سب ذریعے منقطع ہو جائیں گے۔حلّ لُغات۔تَبَرَّأَ باب تَفَعُّلْ سے ماضی کا صیغہ ہے اور اس کے معنے ہیں تَخَلَّصَ یعنی اُس نے چھٹکارا حاصل کر لیا(اقرب) اور اَلتَّبَرِّیْ (مصدر) کے معنے ہیں اَلتَّغَصِّی مِـمَّا یُکْرَ ہُ مُـجَاوَرَتُہٗ یعنی ناپسندیدہ چیز سے چھٹکارا حاصل کرنا(مفردات) پس آیت کے معنے یہ ہیں کہ وہ معبودان باطلہ یا وہ ہستیاں جنہیں خدا تعالیٰ کا شریک قرار دیا جاتا ہے عبادت کرنے والوں کو ناپسندیدہ قرار دیںگے۔اور اپنے آپ کو پاک ٹھہرائیں گے اور کہیں گے کہ ہم تو ایسے اعمال کرنے والوں کے ساتھ نہ تھے۔اَ لْاَسْبَابُ سَبَبٌ کی جمع ہے اور اَلسَّبَبُ کے معنے ہیں مَایُتَوَ صَّلُ بِہٖ اِلٰی غَیْرِہٖ۔وہ چیز جس کے ذریعہ سے غیر تک پہنچا جائے۔اسی طرح اس کے معنے رستہ۔محبت اور قرابت کے بھی ہیں۔(لسان العرب) تفسیر۔فرماتا ہے ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ جن کو یہ لوگ نِدّ قرار دیتے ہیں وہ بھی اس وقت کہہ اُٹھیں