تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 101
کو قرار دیا ہے۔مگر لوگ خدا تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کا دامن پکڑنے کے لئے نہیں جاتے اور اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔خدا تعالیٰ کی محبت ظاہر کرتے ہیں لیکن لوگوں کے حقوق دباتے ہیں۔جھوٹ بولتے ہیں۔بہتان باندھتے ہیں غیبتیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سے عشق کا اظہار کرتے ہیں لیکن قرآن کریم کا مطالعہ اور اس پر غور کرنے کی توفیق ان کو نہیں ملتی۔غرض محبت کا دعویٰ اور شے ہے اور حقیقی محبت اور شے ہے۔قرآن کریم بتاتا ہے کہ انسان اس وقت تک کبھی سچا مومن نہیں بن سکتا جب تک وہ عملاً خدا تعالیٰ سے ایسی محبت نہ کرے کہ اس کے مقابلہ میں نہ ماں باپ کی محبت ٹھہر سکے۔نہ بیٹوں کی محبت ٹھہر سکے۔نہ بھائیوں کی محبت ٹھہر سکے۔نہ بیویوں کی محبت ٹھہر سکے نہ قبیلہ اور قوم کی محبت ٹھہر سکے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ ثَلَا ثٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ وَجَدَ حَلَاوَۃَ الْاِیْمَانِ اَنْ یَکُوْنَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِـمَّا سِوَاھُمَا وَاَنْ یُّحِبَّ الْمَرْءَ لَا یُحِبُّہٗ اِلَّا لِلّٰہِ وَاَنْ یَکْرَہَ اَنْ یَعُوْدَ فِی الْکُفْرِ کَمَا یَکْرَہُ اَنْ یُقْذَ فَ فِی النَّارِ(بخاری کتاب الایمان باب حلاوۃ الایمان) یعنی جس شخص میں یہ تین باتیں پائی جائیں اس کے متعلق سمجھ لو کہ اُسے حلاوتِ ایمان حاصل ہوگئی ہے۔اول یہ کہ خدا اور اس کا رسول اس کی نگاہ میں تمام ماسوا سے زیادہ محبوب ہو۔دوم انسان دوسرے سے محض اللہ کے لئے محبت کرے سوم۔ایمان لانے کے بعد وہ کفر کی طرف لَوٹنا ایسا ہی ناپسند کرے جیسے آگ میں ڈالا جانا۔وَ لَوْ يَرَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ آج تو یہ لوگ اسلام کی مخالفت کر رہے ہیں اور بتوں کو خدا تعالیٰ کا شریک قرار دے رہے ہیں لیکن اگر یہی لوگ اس وقت کا نظارہ اپنے ذہنوں میں لا سکیں جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو انہیں سب کچھ بھول جائے اور انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کا شریک بنانا کوئی معمولی گناہ نہیں۔اس وقت تو یہ لا علمی اور جہالت کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں لیکن اگر یہ اُس وقت کا تصور کر سکیں جب ان پر اپنے معبودوں کی بے بضاعتی روشن ہو جائےگی تو وہ ایسا کبھی نہ کریں جیسا کہ فتح مکہ کے موقع پر تمام کفار نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اُن کے معبود اُن کے کسی کام نہ آئے بلکہ وہ توڑ پھوڑ کر پھینک دیئے گئے اور بیت اللہ کو خدائے واحد کی عبادت کے لئے پاک کر دیا گیا۔اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ کی تشریح میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس اُخروی عذاب کی بھی تفصیل بیان فرمائی ہے جو کفار کو ملے گا اور بتایا ہے کہ انہیں تمثیلی طور پر سانپ اور بچھو اور اسی قسم کی اور خوفناک چیزیں نظر آئیں گی(مسند احمد بن حنبل مسند عبد اللہ بن عمر الجز ۱۰ صفحہ ۴۸۰)۔جو درحقیقت انہی کے اعمال کی ایک شکل ہوںگی کیونکہ دنیا میں انہوں نے سانپوں کی طرح لوگوں کو ڈسا اور بچھوئوں کی طرف نیش زنی سے کام لیا اور درندوں کی طرح لوگوں کو