تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 99

ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے کہ قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْـًٔا وَّ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ۔(آل عمران: ۶۵) یعنی تو کہہ دے کہ اے اہل کتاب! کم سے کم ایک ایسی بات کی طرف تو آجائو جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے۔اور وہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کریں۔کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ہم آپس میں ایک دوسرے کو ربّ نہ بنایا کریں۔لیکن اگر اس دعوتِ اتحاد کے بعد بھی وہ لوگ پھر جائیں تو ان سے کہہدو کہ تم گواہ رہو کہ ہم خدا تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔اس آیت میں (۱) لَانَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ (۲) وَلَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا (۳) وَّ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فرما کر اِلٰہ یعنی معبود اور شریک اور ربّ تینوں اقسامِ شرک کی نفی تو صراحتًا کی گئی ہے۔مگر نِدّ کی ضمنی طور پر نفی کی گئی ہے۔کیونکہ نِدّ ان تینوں کے اندر شامل ہے۔یعنی جو نِدٌّ ہو گا۔وہ بغیر عبادت اور شرک فی الصّفات اور اطاعتِ کامل کے نہیں ہو گا۔اور جب غیر اللہ کی عبادت اور شرک فی الصفات اور رب بنانے کو گناہ قرار دے دیا گیا تو نِدّکی خود بخود نفی ہو گئی لیکن اس کے علاوہ لَا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ سے بھی نِدّ کی نفی ہو جاتی ہے۔غرض اسلام توحید کے جس بلند ترین مقام پر بنی نوع انسان کو پہنچانا چاہتا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان نہ تو کسی کو خدا تعالیٰ کا شریک فی الجوہر سمجھے۔نہ کسی کو اس کے کام میں شریک قرار دے خواہ اس کی عبادت کی جائے یا نہ کی جائے۔نہ غیر اللہ میں سے کسی کی پرستش کی جائے اور نہ خدا اور اس کے انبیاء کے احکام کے خلاف کسی کی اس طرح اطاعت کی جائے جس طرح خدا تعالیٰ کی اطاعت کی جاتی ہے۔یہ تمام چیزیں توحید حقیقی کے منافی ہیں۔يُـحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ کے دو معنے ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ ان انداد سے ویسی ہی محبت کرتے ہیں جیسی خدا تعالیٰ سے کرنی چاہیے۔دوسرے جتنی محبت انہیں خدا تعالیٰ سے کرنی چاہیے اتنی ہی وہ اپنے انداد سے بھی کرتے ہیں۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ خدا تعالیٰ سے بھی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ سے کوئی حقیقی محبت نہیں پائی جاتی۔پہلے معنے کے لحاظ سے تو دونوں سے ان کی محبت یکساں معلوم ہوتی ہے لیکن دوسرے معنے کو مدِّنظر رکھتے ہوئے واضح ہو جاتا ہے کہ ان کا خدا تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ محض ایک لاف زنی ہے ورنہ ان دونوں محبتوں میں بڑا بھاری فرق ہوتا۔وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہِ کے بھی دو معنے ہیں ایک تو یہ کہ مومن مشرکوں کی نسبت خدا تعالیٰ سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔یعنی جو محبت مشرکوں کو خدا تعالیٰ سے ہے اس سے بہت زیادہ محبت مومن اپنے خدا سے کرتے ہیں۔یا