تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 86
کو ماننے والوں کی نسبت يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا (الانفال :۳۰) فرمایا گیا ہے یعنی یہ کتاب چونکہ خود فُرْقَان ہے اس لئے اس پر ایمان لانے والوں کو بھی اگر وہ درجۂ کمال تک ایمان لائیں فُرْقَان ملتا ہے۔یہ دلیل انبیاء علیہم ا لسلام کی صداقت پہچاننے کی ایک ایسی زبردست اور جامع دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص اس دلیل کو سمجھ کر انبیاء کی شناخت کی کوشش کرے تو اس کے لئے اپنے زمانہ کے مامور کو پہچاننا کوئی مشکل کام نہیں رہتا۔لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ کی تشریح لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ فرماتا ہے یہ کتاب اور فرقان ہم نے موسیٰ کو اس لئے دئیے تھے تاکہ بنی اسرائیل ہدایت پائیں مگر افسوس انہوں نے نہ کتاب سے فائدہ اُٹھایا اور نہ فرقان سے فائدہ اُٹھایا۔لَعَلَّ کے لفظ سے اِس جگہ شک کا مفہوم نہیں سمجھنا چاہیے یہ شاہانہ کلام ہے اور گولغوی لحاظ سے اس لفظ میں قطعیت نہ پائی جاتی ہو لیکن شاہی کلام میں جب اس قسم کے الفاظ آئیں تو اُن میں قطعیت کا مفہوم ہی پایا جاتا ہے۔بادشاہ اپنے فرامین میں ہمیشہ لکھتے ہیں کہ ہم فلاں قوم سے یہ امید کرتے ہیں حالانکہ اس سے مراد حکم ہوتا ہے۔یہاں بھی لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَکے یہی معنے ہیں کہ ہم نے یہ چیزیں دیں اور ہم بنی اسرائیل سے توقع رکھتے تھے کہ وہ ہدایت پائیں یعنی ہمارے احسان کا تقاضا تھا کہ وہ ہدایت پائیں اور اس کا طبعی نتیجہ یہی نکلنا چاہیے تھا کہ وہ ہدایت پا جاتے لیکن انہوں نے ہمارے احسان کی قدر نہ کی اور اپنی فطرت کو بھی ایسا مسخ کر دیا کہ طبعی نتیجہ یعنی ہدایت سے محروم ہو گئے۔وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب موسیٰ ؑنے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم (کے لوگو) تم نے بچھڑے کو( معبود) بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِىِٕكُمْ فَاقْتُلُوْۤا بنا کر یقیناً اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اس لئے تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف جھکو اس طرح سے کہ اپنے (آدمیوں) کو اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِىِٕكُمْ١ؕ فَتَابَ (آپ) قتل کرو۔یہ بات تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے حق میں بہت اچھی ہے۔تب اس نے عَلَيْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ تمہاری طرف فضل کے ساتھ پھرتوجہ کی۔وہ یقیناً (اپنے بندوں کی طرف )بہت توجہ کرنے والا (اور)