تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 77
ڈیڑھ یا دوسطر کے ایک خط کا نام رکھا گیا ہے۔پس محض کتاب کے لفظ سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اس سے مراد ساری تورات ہے صرف اس خواہش کا نتیجہ ہے کہ کسی طرح قرآن کریم پر اعتراض کیا جائے خواہ سچائی کو فائدہ پہنچتاہو یا نقصان۔اَلْفُرْقَانُ کے متعلق ریورنڈ ویری کا اعتراض کہ یہ لفظ شامی ہے فرقان کے متعلق ریورنڈویری نے اپنی تفسیر میں رومن اُردو قرآن کے حوالہ سے جو ایک عیسائی کی مختصر تفسیر ہے لکھا ہے کہ یہ لفظ شامی زبان سے مستعار لیا گیا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ محمد ( صلی اﷲ علیہ وسلم) افرائیم شامی کی تفسیر بائبل سے واقف تھے جس میں متواتر بائبل کو فرقان کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔پادری ویری صاحب اس بات کو تو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ لفظ شامی زبان سے لیا گیا ہے لیکن وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہ ٖوسلم کوکسی شامی یا عبرانی عیسائی کتاب کی واقفیت تھی کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کے بیان کردہ واقعات تاریخ کلیسیا کے واقعات سے نہایت ہی مختلف ہیں پس وہ صرف سُنی سُنائی حکایات پر مبنی کہے جا سکتے ہیں۔رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کا کسی شامی کتاب سے واقف ہونا یا نہ ہونا تو ایک ایسا سوال ہے جس کا اس موقع سے کوئی تعلق نہیں اور نہ کوئی معقول آدمی اس کو تسلیم کر سکتا ہے۔رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم صرف چند ہفتوں کے لئے شام میں ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ گئے تھے۔اس عرصہ میں آپ کا شامی زبان سیکھ جانا اور اس کے لٹریچر کا مطالعہ کر لینا یہ صرف ایک فاترالعقل انسان کا ہی خیال ہو سکتا ہے کوئی معقول آدمی اس کو تسلیم نہیں کر سکتا۔انگریز چالیس چالیس سال تک ہندوستان میں رہتے ہیں مگر پھر بھی ہزاروں میں سے کوئی ایک ہوتا ہے جو اُردو زبان کو پڑھ سکتا ہو۔ورنہ تحریری زبان تو الگ رہی بولنے والی زبان سے بھی وہ بالکل کورے ہوتے ہیں پھر اس تجربہ کے ہوتے ہوئے کِسی مصنّف کا یہ کہنا کہ صرف چند ہفتوں کے اندر اندر رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے اپنے تجارتی کاموں کے علاوہ شامی زبان بھی سیکھ لی تھی اور نہ صرف شامی زبان سیکھ لی تھی بلکہ شامی زبان کے لٹریچر سے بھی واقفیت حاصل کر لی تھی صرف اُس تعصّب کو ظاہر کرتا ہے جو مسیحی اقوام کے دلوں میں رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے متعلق پیدا ہو چکا ہے۔اس بات کا ردّ کہ فرقان شامی لفظ نہیں باقی رہا فرقان کا شامی لفظ ہونا یہ بھی عربی زبان سے ناواقفیت کی علامت ہے۔تعجب ہے کہ وہ لوگ جو عربی زبان سے کوئی َمس نہیں رکھتے وہ قرآن کریم کی تفسیریں لکھنے بیٹھ جاتے ہیں جو عربی زبان کا بہترین نمونہ اور اُس کی تمام خوبیوں کا حامل ہے۔اس بات کا ثبوت کہ فرقان عربی لفظ ہے فُرْقَان کا لفظ درحقیقت عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے بہت