تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 78

سے صیغے مختلف شکلوں میں عربی زبان میں استعمال ہوتے ہیں۔اِس آیت سے پہلے ہی وَاِذْ فَرَقْنَابِکُمُ الْبَحْرَ آچکا ہے۔اسی طرح عربی زبان میں فَرَقَ۔فَرَّقَ۔فَارَقَ۔اَفْرَقَ۔تَفَرَّقَ۔تَفَارَقَ۔اِنْفَرَقَ۔اِفْتَرَقَ۔فَارُوْقٌ۔فَرَاقٌ۔فَرْقٌ۔فَرُّوْقٌ۔فُرَقَانٌ۔فُرْقٌ۔فِرْقٌ۔فَرَقٌ۔فَرِیْقٌ۔فَرْقَاءُ۔فِرْقَۃٌ۔فَرُوْقٌ۔فَرِیْقَۃٌ۔اَفْرَقُ۔تَفَارِیْقُ۔مَفْرَقٌ۔مَفْرِقٌ۔مُفْرِقٌ۔مُنْفَرَقٌ۔مُفَرِّقٌ وغیرہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو سب کے سب فرقان کے مادے سے ہیں۔اگر یہ لفظ شامی زبان سے مستعار لیا گیا ہے تو تمام کے تمام الفاظ عربی زبان میں کہاں سے آگئے اور اگر یہ الفاظ عربی زبان کے ہیں تو اس مادے کا جو مصدر ہے وہ شامی کس طرح ہو گیا۔ہاں ایک صورت ہوسکتی تھی اور وہ یہ کہ فرقان کا وزن عربی زبان کے اَوزان میں سے نہ ہوتا اِس صورت میں بے شک کہا جا سکتا تھا کہ گو یہ مادہ عربی زبان کا ہے مگر چونکہ فرقان کا وزن عربی میں مستعمل نہیں اس لئے یہ لفظ شامی زبان سے لیا گیا ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں فرقان کا وزن عربی زبان میں بکثرت استعمال ہوا ہے چنانچہ سُبْحَان خدا تعالیٰ کا نام ہے قُرْاٰن قرآن کریم کا دوسرا نام ہے۔نُعْمَان فقہ کے مشہور امام حضرت امام ابوحنیفہؒکے نام کا جزو ہے۔کُفْرَان کفر کو کہتے فُقْدَان کے معنے غائب ہو جانے کے ہیں پس یہ وزن بکثرت عربی ز بان میں استعمال ہوتا ہے اور اس وزن کے سینکڑوں الفاظ عربی زبان میں پائے جاتے ہیں پس جبکہ فرقان کا مادہ بھی عربی زبان میں مختلف شکلوں میں کثرت سے استعمال میں آتا ہے اور فرقان کا وزن بھی عربی زبان کا وزن ہے اور اس قسم کے سینکڑوں الفاظ عربی زبان میں پائے جاتے ہیں اسے شامی کہنا ناواقفیت اور جہالت کی علامت نہیں تو اور کیا ہے مگر میں اس سے بڑھ کر ایک اور ثبوت اس بات کا دیتا ہوں کہ یہ لفظ عربی کا ہے بلکہ اس مادے کو پورے طور پر صرف عربی نے ہی استعمال کیا ہے اور شامی اور عبرانی زبانیں جو عربی کی فرعیں ہیں اگر اُن میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے تب بھی وہ اس پوری حکمت اور شان کا حامل نہیں جس حکمت اور شان کا حامل یہ عربی لفظ ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ عربی زبان میں صرف لفظ کے معنے نہیں ہوتے بلکہ لفظ جن حروف سے مرکّب ہوتا ہے اس کے اصل معنوں پر وہ دلالت کرتے ہیں چنانچہ حروف کے مقام اور مختلف حروف کے مشابہ حروف کے اندر بھی معنوں کا ایک تسلسل پایا جاتا ہے مثلاً ایک لفظ ف ر ق سے بنتا ہے جیسے فُرْقَان تو ایک تو اس لفظ کے مخصوص معنے عربی زبان میں ہوں گے اور ایک معنوں کی فلسفیانہ حکمت ہو گی جو نہ صرف اس لفظ میں پائی جائے گی بلکہ تمام ان الفاظ میں بھی پائی جائے گی جو ف ر ق سے بنے ہوں اور ان میں بھی اصولی طور پر وہی معنے یا اس کے مخالف معنے پائے جا ئیں گے۔مخالف معنے بھی ایک مشارکت رکھتے ہیں یعنی ان کی وجہ سے ذہن میں دوسرے معنے آ جاتے ہیں چنانچہ عربی زبان میں بہت سے ایسے لفظ پائے جاتے ہیں جو مخالف معنے