تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 74
اعتراض اور اس کا جواب ریورنڈویری نے اپنی تفسیرمیں اِس آیت پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہاں ہمیں محمد( صلی اﷲعلیہ و آلہٖ وسلم ) کی یہودی تاریخ سے ناواقفیت کی ایک مثال ملتی ہے جیسا کہ اور بھی کئی مثالیں اِس سورۃ میں ہمیں مِلتی ہیں اور وہ مثال یہ ہے کہ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کو تورات اس پہاڑ پر دی گئی تھی۔حالانکہ وہاں ان کو صرف الواح ملی تھیں پس قرآن کریم کا بیان ایک اسرائیلی تاریخ سے ناواقف انسان کا بیان ہے۔میرے نزدیک پادری صاحب کو (اوّل) بائبل پر حد سے زیادہ حسن ظنّی معلوم ہوتی ہے جس کی وہ مستحق نہیں ( دوم) قرآنِ کریم سے اُن کو اتنی دشمنی معلوم ہوتی ہے کہ وہ اُس پر غور کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے۔وہ اپنی نجات کے لئے اُس پر اعتراض کرنا ہی کافی سمجھتے ہیں۔اُن کا بغیر کسی بیرونی شہادت کے بائبل کے بیان کو صحیح قرار دینا نہایت خلافِ عقل بات ہے۔بائبل کے تو باب باب کی خود عیسائی مصنّفین نے ایسی دھجیاں اُڑائی ہیں کہ اس کی کسی بات کی تصدیق بیرونی شہادت کے بغیر ناممکن ہے۔پادری صاحب کہتے ہیں بائبل سے ثابت ہے کہ طُور پہاڑ پر حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کو الواح ملی تھیں۔چونکہ قرآن اس کے خلاف کہتا ہے اس لئے قرآن جھوٹا ہے اور وہ (نعوذ باﷲ ) ایک جاہل انسان کی تصنیف ہے مگر پادری ویری صاحب کو یہ خیال نہیں آیا کہ خو د اُن کے ہم مذہب جیسا کہ ہم اوپر بتا آئے ہیں اوّل تو موسیٰ علیہ ا لسلام کے ہی منکر ہیں۔پھر اگر موسیٰ علیہ ا لسلام کے قائل ہیں تو وہ اسے ایک مصری نثراد انسان بتاتے ہیں اور بعض اُن میں سے بنی اسرائیل کے مصر جانے کے ہی قائل نہیں کُجا یہ کہ وہاں سے خروج کے قائل ہوں۔پھر جس طُور کے متعلق پادری ویری صاحب کا خیال ہے کہ وہاں دو الواح ملی تھیں۔محقّقین جدید اوّل تو اِس طُور کے ہی منکر ہیں اور اگر اسے مانتے ہیں تو مصر اور عرب اور شام کے درمیانی علاقہ میں مختلف مقامات پر اس کی تعیین کرنا چاہتے ہیں۔بائبل کے جو بیانات تاریخ کے رو سے اتنے مجروح ہیں اس کے متعلق یہ کہنا کہ یہ محمدرسول اﷲ صلی اﷲعلیہ و آلہٖ وسلم کی ناواقفیت ہے کہ انہوں نے بائبل کے خلاف بات لکھ دی صرف اتنا ہی ظاہر کرتا ہے کہ پادری ویری صاحب کو نہ بائبل کا علم ہے اور نہ اُن تاریخوں کا جو بائبل کے متعلق نئے انکشاف کی بناء پر لکھی گئی ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو کچھ طوُر پر ملا وہ صرف دس احکام تھے قرآن کریم کے متعلق اُن کو جو تعصّب ہے اُس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ قرآن کریم میں طُور پر ساری بائبل کے اُترنے کا کہیں ذکر نہیں بلکہ بائبل کے بیان کے موافق جسے ویری صاحب نے بھی تسلیم کیا ہے بعض احکام اور الواح کے اُترنے کا ہی ذکر ہے۔